اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

صدف حاصلو قتل کیس کی سماعت: لاڑکانہ سرکٹ بینچ میں آئی جی سندھ پیش

لاڑکانہ، 29 مئی (پی پی آئی)سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ میں صدف حاصلو قتل کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ غلام نبی میمن پیش ہوئے، جہاں امن و امان کی ناقص صورتحال پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔عدالت میں جسٹس امجد علی سہتو نے سندھ میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شکارپور سے کشمور تک ڈاکوؤں کے راج پر سوالات کیے۔ انہوں نے وڈیروں کی جانب سے اسلحہ کی کچے کے ڈاکوؤں کو فراہمی پر پولیس کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔جسٹس سہتو نے آئی جی سندھ سے پولیس کی ناتوانی پر سوالات کیے اور پولیس اہلکاروں کو ویزا سے ہٹاکر تھانوں پر مقرر کرنے کی ہدایت کی، تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔صدف حاصلو کیس کی تحقیقات پر گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ایک انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے، اور انعامی رقم بھی بڑھا کر پچیس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔عدالت نے رینجرز کی کارکردگی پر سوالات کیے اور کہا کہ اتنی بڑی رقم حاصل کرنے کے بعد بھی ڈاکو کیوں نہیں پکڑے جا سکے۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم جاوید احمد نے بتایا کہ رینجرز کو 6.1 ارب روپئے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس پر عدالت نے تجویز دی کہ یہ رقم سندھ پولیس کو دی جائے تاکہ جدید اسلحہ خریدا جا سکے۔