صدف حاصلو قتل کیس کی سماعت: لاڑکانہ سرکٹ بینچ میں آئی جی سندھ پیش

لاڑکانہ، 29 مئی (پی پی آئی)سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ میں صدف حاصلو قتل کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ غلام نبی میمن پیش ہوئے، جہاں امن و امان کی ناقص صورتحال پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔عدالت میں جسٹس امجد علی سہتو نے سندھ میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شکارپور سے کشمور تک ڈاکوؤں کے راج پر سوالات کیے۔ انہوں نے وڈیروں کی جانب سے اسلحہ کی کچے کے ڈاکوؤں کو فراہمی پر پولیس کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔جسٹس سہتو نے آئی جی سندھ سے پولیس کی ناتوانی پر سوالات کیے اور پولیس اہلکاروں کو ویزا سے ہٹاکر تھانوں پر مقرر کرنے کی ہدایت کی، تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔صدف حاصلو کیس کی تحقیقات پر گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ایک انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے، اور انعامی رقم بھی بڑھا کر پچیس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔عدالت نے رینجرز کی کارکردگی پر سوالات کیے اور کہا کہ اتنی بڑی رقم حاصل کرنے کے بعد بھی ڈاکو کیوں نہیں پکڑے جا سکے۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم جاوید احمد نے بتایا کہ رینجرز کو 6.1 ارب روپئے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس پر عدالت نے تجویز دی کہ یہ رقم سندھ پولیس کو دی جائے تاکہ جدید اسلحہ خریدا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

کراچی پولیس کے ہاتھوں 8مشتبہ ڈاکو الگ الگ مقابلوں کے بعد گرفتار

Thu May 29 , 2025
کراچی، 29 مئی (پی پی آئی) کراچی میں پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تین الگ الگ مقابلوں میں پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کیا اور اسلحہ، گاڑیاں اور چوری شدہ سامان برآمد […]