اسلام آباد، 23 جون (پی پی آئی): آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ فنی تعلیم، سردار امیر الطاف خان نے اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جرمن، جاپانی اور کورین زبانوں میں تربیت کے پروگراموں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتی پتھروں اور معدنیات کی تلاش، تراش خراش، پالش اور کان کنی کے کورسز بھی شروع کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو بین الاقوامی منڈیوں کے مطابق مہارتوں سے آراستہ کرنا اور خطے کے معدنی وسائل کو ترقی دینا ہے۔
سردار امیر الطاف خان نے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو عملی مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے حکومت کی لگن پر زور دیا۔ ان کا خیال ہے کہ لسانی تعلیم بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کرے گی اور آزاد کشمیر کے عالمی مقام کو بہتر بنائے گی۔
وزیرِ فنی تعلیم نے خطے کے پوشیدہ معدنی دولت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید کان کنی کی تکنیکوں میں تربیت دینے سے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے، خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو ترقی ملے گی۔ ان وسائل کی ملکی اور بین الاقوامی تجارت آزاد کشمیر کی معاشی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہے اور بے روزگاری کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے
