پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

صنعتی ورکرز کم ازکم اجرت 42 ہزار روپے دینا ممکن نہیں:علوی

کراچی26جون(پی پی آئی)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے صنعتی ورکرز کے لیے کم ازکم اجرت 37 ہزار روپے سے بڑھا کر 42 ہزار روپے مقرر کرنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اقتصادی صورتحال میں صنعتوں کے لیے یہ اجرت دینا ممکن نہیں خاص طور پر جب کہ صنعتی یونٹس بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں بجلی، گیس اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے نے صنعتوں کو غیرمنافع بخش بنا دیا ہے۔ اگر یہ کم از کم اجرت منظور ہوتی ہے تو سندھ ملک بھر میں سب سے زیادہ اجرت دینے والا صوبہ بن جائے گا جبکہ افراط زر کی شرح صرف 6 فیصد ہے اور اجرت میں 14 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

احمد عظیم علوی نے مزید کہا کہ کم از کم اجرت پر الاؤنسز، سیسی، ای او بی آئی اور دیگر لیویز بھی عائد ہوتی ہیں جس سے مجموعی اخراجات تقریباً دگنے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے تک مقرر کی جائے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے صنعتکار موجودہ کم از کم اجرت بھی نہیں دے رہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے فیصلوں پر عمل نہیں کروا پا رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کم از کم اجرت میں غیرمعقول اضافہ کیا گیا تو اس کا بوجھ چھوٹے اور درمیانے صنعتکار برداشت نہیں کر پائیں گے جس سے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صنعتکاروں کے ساتھ مشاورت کرے اور معیشت کو سہارا دینے والے فیصلے کرے نہ کہ ایسے اقدامات جو صنعتوں کے لیے مشکلات پیدا کریں۔