اسلام آباد، 11-جون-2026 (پی پی آئی)
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج پاکستان ریلوے کی اصلاح کے لیے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد اسے عوام کے لیے سفر اور مال بردار نقل و حمل کا ایک محفوظ اور زیادہ مؤثر طریقہ بنانا ہے۔ اس اہم اصلاحاتی اقدام میں مال بردار شعبے کو ریلوے نظام کی بنیاد کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے، اور اس کی ترقی کو ترجیح دینے کی تلقین کی گئی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین اور مشیران ان اصلاحات کے نفاذ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ روڈ میپ میں مسافر اور مال بردار شعبوں کے لیے مارکیٹ شیئر میں اضافے کے ساتھ ساتھ جدید کاری اور مالی استحکام پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ ایسی سرمایہ کاری نہ صرف ریلوے نظام کو بہتر بنائے گی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ کو بھی کم کرے گی۔
مزید برآں، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری سے کاربن کے اخراج کو کم کرکے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، جس سے پائیدار ٹرانسپورٹ کے حل کو فروغ ملے گا۔ اس ترقی کے ذریعے علاقائی روابط میں بہتری اقتصادی سرگرمیوں کو جنم دے گی۔
ریلوے کی زمینوں پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ریلوے نظام میں دوبارہ لگایا جائے گا، جس سے مسلسل بہتری کا سلسلہ یقینی بنایا جائے گا۔ جامع اصلاحاتی ایجنڈے میں سروس کے معیار کو بہتر بنانے، نیٹ ورک کی صلاحیت کو بڑھانے، اور ایک مضبوط حکومتی نظام قائم کرنے کے اہداف شامل ہیں۔
منصوبے کی اہم خصوصیات میں ڈیجیٹلائزیشن، ریلوے لائنوں کی توسیع، اور مسافروں کے لیے جدید کوچز اور سہولیات کا تعارف شامل ہے۔ پٹریوں کی بہتری اور آپریشنز کی حکمت عملی کے ساتھ صحیح سائزنگ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
وفاقی وزراء، مشیران، اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اس اجلاس میں موجود تھے، جس میں ان جامع اصلاحات کے اسٹریٹجک مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ریلوے کے حکومتی نظام اور مالی صحت کی بہتری کی اہمیت پر زور دیا گیا، جس سے ایک جدید، مؤثر، اور پائیدار ریلوے نیٹ ورک کی راہ متعین ہوئی۔