کراچی، 29 جون (پی پی آئی): جماعت اسلامی پاکستان کے سابق ایم این اے اسد اللہ بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے الہی مدد سے حق اور باطل کی جنگ میں اسرائیل اور امریکہ جیسے طاقتور دشمنوں کے غرور کو خاک میں ملا کر مزاحمت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم ظالم اور جابر حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیتا ہے۔
یہ بات انہوں نے سچل گوٹھ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے نعیم اختر، احمد فہیم عثمانی اور حماد اللہ بھٹو نے بھی خطاب کیا۔
بھٹو نے 17,573 ارب روپے کے نئے وفاقی بجٹ کو حکمران طبقے کے لیے خوشخبری اور عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔ انہوں نے 463 ارب کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مذمت کی جو براہ راست عوام پر اثرانداز ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کمرتوڑ مہنگائی اور ناانصافی کا شکار عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اشرافیہ اپنے تنخواہوں، مراعات اور آسائشات میں کمی نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ حکمرانوں، فوجی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے اور غریبوں کے لیے بہت کم گنجائش رکھی گئی ہے، اس لیے یہ بجٹ ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ حکمران طبقے میں ریاستی وسائل کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ بھٹو نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف اسلامی نظام اور ایماندار قیادت سے ممکن ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حقیقی تبدیلی کے لیے کوشاں قیادت کی حمایت کریں
