کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

؛بلاول کا کرن تھاپڑ کے ساتھ مکالمہ پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی ہے، شرجیل انعام

کراچی، 10 جولائی 2025 (پی پی آئی): چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کرن تھاپڑ کے ساتھ مکالمہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا۔ بھٹو زرداری نہ صرف نوجوان سیاسی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ قوم کے لیے ایک باوقار بین الاقوامی ترجمان بھی ہیں۔میمن نے عالمی دہشت گردی کے پیچیدہ موضوع پر پاکستان کے موقف کے بارے میں بھٹو زرداری کے پراعتماد، باخبر اور بصیرت افروز اظہار کی تعریف کی۔ تھاپڑ جیسے تجربہ کار اور چیلنجنگ انٹرویو لینے والے کے سامنے اتنے اعتماد سے بات چیت کرنا اور مؤثر طریقے سے انہیں دفاعی پوزیشن پر لانا، بھٹو زرداری کی سیاسی چالاکی اور سفارتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔مکالمے کے دوران، تھاپڑ کئی بار پریشان اور غیر متوازن نظر آئے، جبکہ بھٹو زرداری نے ایک پرسکون، معقول اور غیر مبہم موقف برقرار رکھا۔ میمن نے نوٹ کیا کہ تھاپڑ وہی رپورٹر ہیں جن کا انٹرویو نریندر مودی نے چھوڑ دیا تھا۔چیئرمین بھٹو زرداری نے نہ صرف تھاپڑ کے خلاف اپنا موقف برقرار رکھا بلکہ مکالمے کو اپنے فائدے کے لیے بھی استعمال کیا۔ یہ تبادلہ خیال محض ایک گفتگو نہیں تھی بلکہ پاکستان کی ایک طاقتور سفارتی نمائندگی تھی، جس کی موجودہ عالمی صورتحال میں انتہائی ضرورت ہے۔بھٹو زرداری سیاسی اور نظریاتی ورثے کی تین نسلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی عارضی منظوری پر مبنی نہیں ہے۔ یہ تاریخی شعور کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ چیئرمین کے انٹرویو نے سیاسی پختگی، نظریاتی یقین اور باریک بینی سے تیاری کا مظاہرہ کیا۔ یہ محض میڈیا میں پیشی نہیں تھی بلکہ پاکستان کے ماضی، موجودہ پوزیشن اور مستقبل کی امنگوں کا مکمل اظہار تھا۔دہشت گردی، کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات جیسے اہم مسائل پر پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ شفاف اور اصولی رہا ہے۔ اس گروپ نے ہر مرحلے پر دہشت گردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا ہے، اور اس کے رہنماؤں نے اس جنگ میں ذاتی قربانیاں دی ہیں۔ جب بھٹو زرداری بولتے ہیں، تو یہ صرف ایک فرد کی آواز نہیں ہوتی بلکہ ایک نظریے، ایک تاریخ اور ایک آبادی کے جدوجہد کا مجسمہ ہوتی ہے۔بھٹو زرداری نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو دفاعی طور پر نہیں بلکہ منطق، اصولوں اور تاریخی تناظر کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت، گیس پائپ لائن کے اقدام اور کشمیر کے تنازعے جیسے معاملات پر پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر ہمیشہ قومی مفاد اور جمہوری اقدار پر مبنی رہا ہے۔بھٹو ازم محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی، سماجی اور اقتصادی نظریہ ہے، اور بھٹو زرداری اسی فلسفے کے وارث کے طور پر ابھر رہے ہیں