کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی حکومت کے ماتحت عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین کاپاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج

کراچی28 ستمبر( پی پی آئی)پاکستان کے وفاقی حکومت کے ماتحت عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین نے پاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کا سبب وفاقی حکومت کی جانب سے تین اہم اسپیشل الاؤنسز کا خاتمہ ہے، جس پر ملازمین نے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ الاؤنسز طویل عرصے سے عدالتی ملازمین کو دیے جا رہے تھے اور ان کے ختم ہونے سے ملازمین کی مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔احتجاج میں احتساب عدالتوں، وفاقی اینٹی کرپشن کورٹس، اور دیگر عدالتی اداروں کے ملازمین نے شرکت کی۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر ان اسپیشل الاؤنسز کو بحال کرے اور ان کے مالی حقوق کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی اور اقتصادی مشکلات کے پیش نظر ان مراعات کا خاتمہ غیر منصفانہ ہے اور اس سے عدالتی عملے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا۔احتجاجی ملازمین نے پاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دیا اور نعرے بازی کے ذریعے اپنے مطالبات کی تشہیر کی۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اگر ان کے مطالبات کو فوری تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ حکومت نے اس مسئلے پر فی الحال کوئی حتمی موقف ظاہر نہیں کیا، لیکن متعلقہ وزارتیں اور حکام احتجاجی رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ملازمین کے نمائندوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف مالی مطالبات تک محدود نہیں بلکہ عدالتی نظام کے استحکام اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک سنگین پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ملازمین کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صورتحال وفاقی عدالتوں کی کارکردگی اور نظام انصاف کی ساکھ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔وفاقی حکومت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری حل کرے گی تاکہ عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین کے جائز حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے اور ملک کے عدالتی نظام کی روانی برقرار رہے۔