ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی حکومت کے ماتحت عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین کاپاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج

کراچی28 ستمبر( پی پی آئی)پاکستان کے وفاقی حکومت کے ماتحت عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین نے پاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کا سبب وفاقی حکومت کی جانب سے تین اہم اسپیشل الاؤنسز کا خاتمہ ہے، جس پر ملازمین نے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ الاؤنسز طویل عرصے سے عدالتی ملازمین کو دیے جا رہے تھے اور ان کے ختم ہونے سے ملازمین کی مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔احتجاج میں احتساب عدالتوں، وفاقی اینٹی کرپشن کورٹس، اور دیگر عدالتی اداروں کے ملازمین نے شرکت کی۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر ان اسپیشل الاؤنسز کو بحال کرے اور ان کے مالی حقوق کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی اور اقتصادی مشکلات کے پیش نظر ان مراعات کا خاتمہ غیر منصفانہ ہے اور اس سے عدالتی عملے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا۔احتجاجی ملازمین نے پاکستان سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دیا اور نعرے بازی کے ذریعے اپنے مطالبات کی تشہیر کی۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اگر ان کے مطالبات کو فوری تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ حکومت نے اس مسئلے پر فی الحال کوئی حتمی موقف ظاہر نہیں کیا، لیکن متعلقہ وزارتیں اور حکام احتجاجی رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ملازمین کے نمائندوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف مالی مطالبات تک محدود نہیں بلکہ عدالتی نظام کے استحکام اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک سنگین پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ملازمین کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صورتحال وفاقی عدالتوں کی کارکردگی اور نظام انصاف کی ساکھ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔وفاقی حکومت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری حل کرے گی تاکہ عدالتی اور ٹریبیونلز کے ملازمین کے جائز حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے اور ملک کے عدالتی نظام کی روانی برقرار رہے۔