کراچی، 3 نومبر 2025 (پی پی آئی): سینئیر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ، سندھ حکومت کے نئے بینظیر ہاری کارڈ منصوبے سے صوبائی گندم کی پیداوار اس سطح تک بڑھنے کی توقع ہے جو پاکستان کی غیر ملکی گندم کی درآمدات کی ضرورت کو ختم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور قومی معیشت مستحکم ہوگی۔
میمن نے پیر کے روز اس پروگرام کو صوبے کی زرعی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک “شفاف، منظم اور جدید نظام” قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارڈ کاشتکاروں کو براہ راست ضروری اشیاء، جیسے یوریا اور ڈی اے پی کھاد، کی فراہمی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
میمن نے وضاحت کی کہ مزید برآں، اس اقدام میں کاشتکاروں کے لیے ایک اہم حفاظتی نیٹ بھی شامل ہے۔ قدرتی آفات یا فصل کو شدید نقصان کی صورت میں، متاثرہ کسانوں کو کارڈ کے نظام کے ذریعے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے کسان اس اسکیم کے بنیادی مستفیدین ہیں، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ سرکاری امداد ان تک براہ راست اور شفاف طریقے سے پہنچے۔
میمن نے زور دیا کہ صوبائی انتظامیہ کی یہ کوشش مقامی کسانوں کی خوشحالی سے آگے بڑھ کر پورے ملک کے لیے متوقع فوائد کی حامل ہے۔
مستقبل کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل حکومتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے انضمام سے سندھ کے کسان آنے والے سالوں میں بتدریج زیادہ پیداوار حاصل کریں گے، جس سے صوبے اور مجموعی طور پر پاکستان دونوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
