میرپورخاص، 2 دسمبر 2025 (پی پی آئی): میرواہ گورچانی میں پانی ٹینک سے ملنے والے 6 سالہ بچے کی نعش کی ابتدائی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ موت سے قبل اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ مبینہ طور پر کیس کی پولیس تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
کمیونٹی کے اراکین نے منگل کے روز آئی جی سندھ، ڈی آئی جی، اور ایس ایس پی میرپورخاص سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل میں واقعے میں ملوث مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے
مقتول کی شناخت پریم بھیل عرف بادشاہ بھیل کے بیٹے امون بھیل کے نام سے ہوئی ہے، جو چند روز قبل میرواہ گورچانی کی بھیل کالونی سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ بعد ازاں اس کی لاش بخاری ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم میں واقع پانی کی ٹینکی سے برآمد ہوئی۔
اگرچہ ابتدائی طبی معائنے میں جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں، تاہم حکام نے بتایا ہے کہ حتمی اور جامع پوسٹ مارٹم رپورٹ 15 دن بعد جاری ہونے کی توقع ہے۔
کمسن بچے کی لاش ملنے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تفتیش میں کسی خاطر خواہ پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
گرفتاریوں میں عدم پیش رفت پر مقامی رہائشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جو جاں بحق ہونے والے بچے کے لیے انصاف کے امکانات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ۔
