کراچی، 11 دسمبر 2025 (پی پی آئی): سندھ ہائی کورٹ نے کراچی بس اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر سندھ حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے، جس میں ای چالانز، بھاری جرمانوں اور پبلک بسوں و منی کوچز کی عمر سے متعلق پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست کی سماعت جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس چوہدری نے بس اونرز ایسوسی ایشن کے وکیل، ایڈووکیٹ منصف جان سے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کے خلاف درخواست کن قانونی بنیادوں پر دائر کی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ منصف جان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے یکم جنوری 2025 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، کیونکہ متعلقہ قانون میں ایسی کسی کارروائی یا اختیار کا ذکر موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 121-اے کے تحت جاری ہونے والا یہ نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا ہے، اور اس سیکشن کا سادہ مطالعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو اتنے بھاری جرمانے عائد کرنے یا اس نوعیت کا ای چالان سسٹم متعارف کرانے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد سماعت 15 جنوری 2026 تک ملتوی کر دی اور سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہو اور یہ وضاحت کرے کہ نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران بس اونرز ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد، سینئر رکن خیال محمد، دین محمد اور اعجاز قریشی بھی موجود تھے۔
