ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تاریخی قبرستان مکلی میں قلت آب اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے سیاحوں کو مشکلات

ٹھٹھہ، 25 جنوری 2026 (پی پی آئی): عالمی سطح پر تسلیم شدہ مکلی کا قبرستان اس وقت پانی کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسی سنگین مشکلات سے دوچار ہے، جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے تجربے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف آج ایک سرکاری دورے کے دوران ہوا۔

یہ مسائل ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ، سرمد علی بھگت کے تاریخی مقام کے دورے کے دوران سامنے آئے۔ قبرستان کے کیوریٹر نے ڈپٹی کمشنر کو ایک جامع بریفنگ دی، جس میں اس مقام کی وسیع تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کو بیان کیا گیا کہ یہ کرہ ارض کے سب سے بڑے قدیم قبرستانوں میں سے ایک ہے، جو صدیوں کا تہذیبی ورثہ سموئے ہوئے ہے۔

بریفنگ کے دوران، کیوریٹر نے سیاحوں کو درپیش مشکلات کی تفصیلات بتائیں، جن کی وجہ اس وسیع و عریض ورثے کے مقام پر ناکافی انتظامات اور ضروری سہولیات کی عدم موجودگی ہے۔

نشاندہی کیے گئے خدشات کے جواب میں، جناب بھگت نے محکمہ ثقافت کی جانب سے کیے گئے تحفظ کے کام کو سراہا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات شروع کیے جائیں گے، اور ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کا عہد کیا۔

ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ مکلی کا قبرستان سندھ کا ایک انمول ثقافتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بہتر دیکھ بھال اور ترقی نہ صرف ورثے کے تحفظ کے لیے بلکہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، جو بالآخر اس مقام کو ایک زیادہ پرکشش منزل کے طور پر پیش کرے گا اور عالمی سطح پر صوبے کے تاریخی ورثے کو بلند کرے گا۔