کراچی، 9 فروری (پی پی آئی): مقررین نے پیر کو منعقد ہونے والی چوتھی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس میں انکشاف کیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کے باعث ہر سال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً ایک فیصد نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ حکومتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور کاروباری شخصیات نے پالیسی فریم ورک سے قابلِ سرمایہ کاری موسمیاتی اقدامات کی جانب تیز رفتار پیش رفت پر زور دیا۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام کانفرنس میں وفاقی و صوبائی پالیسی سازوں، بین الاقوامی اداروں، ماحولیاتی ماہرین، صحافیوں اور کارپوریٹ رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور معاشی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان تیزی سے شدت اختیار کرتے موسمیاتی بحران کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں او آئی سی سی آئی کو سراہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں موسمیاتی لچک کو محض کارپوریٹ سماجی ذمے داری نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریکارڈ 53 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی کی لہروں سے لے کر گزشتہ سال چار ملین افراد کی بے دخلی، 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز کے پگھلنے اور سالانہ تقریباً ایک فیصد جی ڈی پی کے نقصان تک، یہ ایک وجودی چیلنج ہے۔”
پاکستان کی تازہ موسمیاتی وابستگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) 3.0 کے تحت 2035 تک اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم منصفانہ منتقلی کے حصول کے لیے 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ انہوں نے پائیدار، گرانٹ پر مبنی اور موسمیاتی انصاف پر مبنی مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیشنل ایڈاپٹیشن پلان، کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان اور گرین ٹیکسانومی جیسے اہم فریم ورک موجود ہیں، تاہم اب توجہ دستیاب مالی وسائل کو متحرک کرنے اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبے تیار کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے نجی شعبے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبہ صرف سرمایہ ہی نہیں بلکہ جدت اور تکنیکی مہارت بھی فراہم کر سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) میں ایشیا و پیسیفک کے لیے پائیدار فنانس کے علاقائی سربراہ چونگ گوانگ یو (چارلس) نے کہا کہ اصل مسئلہ اب سرمایہ کی کمی نہیں بلکہ نظاموں کی عدم ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کی بڑے پیمانے پر شمولیت کے لیے بلینڈڈ فنانس، رسک شیئرنگ میکنزم اور پروگراماتی سرمایہ کاری کے ڈھانچوں کی وکالت کی۔
او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان موسمیاتی ایجنڈے پر ٹھوس پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے موافقتی فنانس پر زور دینے سے لے کر ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ، 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی تکمیل اور پاکستان کے پہلے گرین پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری تک، یہ تمام اقدامات پائیدار فنانس میں بڑھتی ہوئی رفتار کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ تمام اقدامات مل کر موسمیاتی لچک کے لیے ایک واضح اور قابلِ اعتماد قومی عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔”
او آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر جیسن اوانسیانا نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی معاشی نتائج حاصل کرنا تھا۔
انہوں نے کہا، “کوپ 30 کے بعد پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، ہماری گفتگو کا مرکز موسمیاتی وعدوں کو معاشی نتائج میں تبدیل کرنا رہا، جس میں پاکستان کے دباؤ کا شکار بجلی کے نظام کی جدید کاری، قابلِ تجدید توانائی کی تیز رفتار ترقی، ساحلی لچک اور سمندری پائیداری کے ذریعے بلیو اکانومی کے مواقع کا فروغ، اور موسمیاتی پیش گوئی بہتر بنانے، آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہے۔”
کانفرنس میں یو این ڈی پی، ایشیائی ترقیاتی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی پنجاب، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور یونی لیور، نیسلے، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور بیکو گلوبل سمیت معروف کارپوریٹ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر دوسری او آئی سی سی آئی کلائمیٹ ایکسیلینس ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا، جن میں قابلِ تجدید توانائی، سرکلر اکانومی، آبی وسائل کے بہتر انتظام اور جامع موسمیاتی اقدامات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی تنظیموں کو سراہا گیا۔
کلائمیٹ ایکسیلینس (مین ایوارڈ) نیسلے پاکستان کو دیا گیا۔
کلائمیٹ ایکشن ایوارڈ ڈاولینس نے حاصل کیا، جبکہ یونی لیور رنر اپ رہا اور اسمال کمپنیز کیٹیگری میں لوریال پاکستان نے ایوارڈ جیتا۔
واٹر اسٹیورڈشپ ایوارڈ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کو دیا گیا، رنر اپ ریکٹ رہا اور اسمال کمپنیز کیٹیگری میں لوٹے کیمیکلز نے ایوارڈ حاصل کیا۔
قابلِ تجدید توانائی و تحفظ کا ایوارڈ ایٹلس ہونڈا لمیٹڈ اور مارٹن ڈاؤ گروپ کو دیا گیا، رنر اپ میٹرو رہا جبکہ اسمال کمپنیز کیٹیگری میں کے ایس بی پمپس نے کامیابی حاصل کی۔
سرکلر اکانومی ایوارڈ پیپسی کو پاکستان کو دیا گیا، رنر اپ ٹیٹرا پیک رہا اور اسمال کمپنیز کیٹیگری میں اینگرو پاورجن تھر کو ایوارڈ ملا۔
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا ایوارڈ اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے حاصل کیا، رنر اپ اینگرو پولیمر رہا جبکہ اسمال کمپنیز کیٹیگری میں اینگرو ووپک کو ایوارڈ دیا گیا۔
پائیدار فنانس ایوارڈ موبی لنک مائیکروفنانس بینک کو دیا گیا، جبکہ بینک الفلاح رنر اپ رہا۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے پیش نظر موسمیاتی پالیسی کو اب حاشیے پر نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی اور قومی ترقیاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بننا ہوگا۔