سکرنڈ، 16 مارچ 2026 (پی پی آئی): سکرنڈ میں ایک بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو غریب خواتین کے لیے مختص بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں خورد برد میں ملوث ہے۔ امداد تقسیم کرنے والوں نے خود منظم رشوت ستانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس میں سرکاری افسران، پولیس اور صحافیوں کو اس مبینہ بدعنوانی میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔
یہ معملہ آج اس وقت منظر عام پر آیا جب سکرنڈ کے شہریوں نے فنڈ تقسیم کرنے والوں، جنہیں ڈیوائس ہولڈرز کہا جاتا ہے، کی جانب سے امدادی رقم سے جبری کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے جواب میں، ڈیوائس ہولڈرز نے مبینہ طور پر یہ عمل روکنے سے انکار کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ تقسیم کے پورے سلسلے میں رشوت کے مطالبات پورے کرنے کے لیے یہ کٹوتیاں کرنے پر مجبور ہیں۔
ڈیوائس ہولڈرز سے منسوب دعووں کے مطابق، مبینہ طور پر پورا نظام ہی ملی بھگت کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اے ڈی) نوابشاہ نے ان سے 450,000 روپے وصول کیے ہیں، جبکہ مزید 180,000 روپے اس عمل میں شامل ایک فرنچائز کو ادا کیے گئے ہیں۔
الزامات کی زد میں مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی آئے ہیں۔ عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار نہ صرف ناجائز رقوم وصول کر رہے ہیں بلکہ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مستحق وصول کنندگان کی قطاروں کو نظرانداز کرکے اپنے امدادی کارڈز بغیر کسی کٹوتی کے وصول کر رہے ہیں۔
مزید برآں، ڈیوائس ہولڈرز نے الزام عائد کیا ہے کہ صحافیوں کے روپ میں درجنوں افراد بھی اس میں ملوث ہیں۔ ان “کالی بھیڑوں” پر الزام ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض ماہانہ 2,000 سے 5,000 روپے تک بھتہ وصول کرتے ہیں۔
ان انکشافات نے سکرنڈ کے رہائشیوں میں شدید مایوسی پھیلا دی ہے۔ مقامی شہریوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سرکاری محافظ ہی مجرم بن جائیں تو غریبوں کو انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے اعلیٰ حکام اور انسداد بدعنوانی کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پورے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔
