کرسچین اسٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام سندھ میں کمپوزٹ ہیریٹیج اور امن سازی پر 2 روزہ تربیتی پروگرام منعقد

سندھ بھر میں 25 سے زائد ہیٹ ریلیف کیمپ قائم ،ٹھنڈا پانی، او آر ایس، شربت، اور ابتدائی طبی امداد کا انتظام

بیرونی قرضوں کے مسئلے پر فوری طور پر قومی سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے:پی ڈی پی

ڈپلومیسی، سیکورٹی-معرکہ حق میں کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، سردار مسعود

کراچی کلفٹن غازی مزار کے قریب سے ملنے والی نعش اسپتال منتقل

شہید بینظیر آباد میں پولیس کی چشم پوشی کے باعث منشیات کا دھندا بلا خوف و خطر جاری

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شہید بینظیر آباد میں پولیس کی چشم پوشی کے باعث منشیات کا دھندا بلا خوف و خطر جاری

سکرند، 10-مئی-2026 (پی پی آئی): شہید بینظیر آباد ضلع میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور منشیات کی بے باک فروخت نے مقامی شہریوں، والدین، اور کمیونٹی گروپوں میں تشویش کی لہر پیدا کی ہے۔کیونکہ شراب، افیون، اور میتھ ایمفیٹامین جیسے مواد کی تجارت بلا روک ٹوک جاری ہے

رہائشیوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور طلباء بھی اس خطرناک رجحان کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف محلوں میں نشہ آور اشیاء اور دیگر مضر اشیاء کی کھلے عام فروخت ایک روزمرہ کا منظر بن چکی ہے، جبکہ حکام خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں۔

والدین اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر فوری اور فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو مستقبل کی نسلوں کے لئے تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ منشیات کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے سرکاری دعووں کے باوجود، ایک عام تاثر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کی کاروائی سطحی ہے، صرف چھوٹے فروخت کنندگان کو دکھاوے کے لئے نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ بڑے ڈیلر بغیر کسی رکاوٹ کے رہ جاتے ہیں۔

کمیونٹی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ گٹکا اور مین پوری جیسے مواد کو انتظامی توجہ کیوں ملتی ہے، جبکہ زیادہ خطرناک منشیات بلا روک ٹوک بڑھتی جا رہی ہیں۔

شہریوں، سماجی تنظیموں، اور والدین کی ایک اجتماعی پکار یہ ہے کہ انسپکٹر جنرل سندھ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل شہید بینظیر آباد، اور ضلع کے حکام منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت اور غیر جانبدار اقدامات نافذ کریں۔ یہ مطالبہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نوجوان نسل کو اس خطرناک خطرے سے بچانے کے لئے فوری ضرورت ہے، تاکہ ضلع اور وسیع تر سندھ علاقے کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔