اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سماجی اصلاحات مساجد کو مذہبی رسومات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سماجی اصلاحات کے مرکزی مراکز بنایا جائے:ڈاکٹر نور احمد شہتا

کراچی، 15 جون 2026 (پی پی آئی):

ڈاکٹر نور احمد شہتاز، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل، نے مساجد کے کردار میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں صرف مذہبی رسومات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں سماجی اصلاحات کے مرکزی مراکز بنایا جائے۔ انہوں نے جمعہ کے خطبات کو جدید مسائل کی عکاسی کرنے کے لیے ڈھالنے کی وکالت کی، تاکہ کمیونٹی کو مزید متعلقہ رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

ڈاکٹر شہتاز نے نوجوان نسل کو حکمت عملی کے تحت مساجد سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں گھر کی بنیاد پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کا انتظام شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی اصلاح میں حکمت، عقل، اور دور اندیشی کا استعمال ضروری ہے۔

کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع الحق سکالرز اکیڈمی میں آج ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں 55 علمائے کرام اور خطیبوں نے شرکت کی، ڈاکٹر شہتاز نے اس بات پر زور دیا کہ خطبات کو مختصر اور بامقصد ہونا چاہیے تاکہ سامعین کی دلچسپی برقرار رہے اور مطلوبہ پیغام مؤثر طریقے سے پہنچایا جا سکے۔

اجلاس کا مقصد جمعہ کے خطبات کو مزید مؤثر اور موجودہ سماجی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔ اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔

مفتی محمد شہباز احمد مدنی، جنہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہا، نے جمعہ کے خطبات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں سوال و جواب کا سیشن بھی شامل تھا، جس سے شرکاء کو اپنی بصیرت اور تجاویز پیش کرنے کا موقع ملا۔

اجلاس کا اختتام اختتامی کلمات اور اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء نے جمعہ کے خطبات کے اثر کو بڑھانے کے لیے جاری مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔