پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

2022 سندھ میں تعلیم کیلئے بدترین، محکمہ تعلیم میں بے قاعدگیوں کاراج

گھوسٹ اساتذہ کا خاتمہ نہ ہوسکا،اسکول ڈراپ آؤٹس کی تعداد بھی بڑھ گئی
انٹر امتحانات میں شہر قائد سمیت صوبہ کے درجنوں کالجز کے تمام ہی طلبہ فیل
کراچی (پی پی آئی) 2022 سندھ کے تعلیمی شعبے کے لیے بدترین رہا ایک سروے کے مطابق محکمہ تعلیم بد ترینقرار پایا۔اس سال بھی اسکولوں سے گھوسٹ اساتذہ کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ پی پی آئی کے مطابق سندھ میں تعلیم کے لیے 356 ارب روپے سالانہ بجٹ میں رکھے گئے تھے۔ اس کے باوجود سال رواں صوبے میں تعلیم کے حوالے سے بدقسمت ثابت ہوا اور اسکول ڈراپ آؤٹس کی تعداد بڑھ گئی۔ 5 ہزار اسکولوں کی عمارتیں آج بھی مخدوش ہیں۔سیلاب نے صوبے میں موجود 49 ہزار اسکولوں میں سے 20 ہزار کو مکمل تباہ کردیا جس کے باعث 23 لاکھ طلبہ سے تعلیمی سہولت چھن گئیاس سال بھی سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ملازمت مستقل کرنے کا مطالبہ لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے لیکن 2017 میں بھرتی ہونے والے ہیڈ ماسٹرز اور 10 سال سے ملازمت کرتے کنٹریکٹ اساتذہ کا یہ احتجاج رائیگاں گیا۔ایک جانب کنٹریکٹ اساتذہ کا ناکام احتجاج تھا تو دوسری جانب سندھ حکومت کو 2022 میں اسکولوں سے گھوسٹ اساتذہ کا خاتمہ کرنے میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس سال بھی کئی اساتذہ کو بغیر حاضری تنخواہ وصول کرنے پر ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔سندھ میں اعلیٰ تعلیم کی بات کریں تو پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ کراچی بھی سنگین مالی بحران کا شکار رہی۔ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شہر قائد سمیت سندھ کے درجنوں کالج کے تمام طلبہ فیل قرار پائے۔ سندھ کے تعلیمی بورڈ کے امتحانات ہو یا پروفیشنل جامعات و کالجز کے معاملات، تمام امور انتظامی بدنظمی دیکھنی میں آئی۔