کراچی کی سڑکوں پر دو منزلہ اور برقی بسوں کا ایک بڑا بیڑہ چلنے کا اعلان

جنوبی پنجاب محروم نہیں، ہماری ترجیح ہے:وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب

وفاقی وزیرِ خزانہ کی برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ سے ملاقات

وزیر اعظم سے گورنر سندھ کی ملاقات ،کلیدی مسائل پر تبادلہ خیال

سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانا پہلی ترجیح ہے، ایس ای سی پی

اوکاڑہ میں ڈی سی اور ڈی پی او کا دورہ ، عاشورہ جلوس روٹ کا تفصیلی معائنہ کیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

لداخ میں مارے گئے بھارتی فوجی کا والد بیٹے کی یادگار تعمیر کرنے پر بہار میں گرفتار

پٹنہ (پی پی آئی) مقبوضہ مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں 2020میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ تصادم میں مارے گئے ایک بھارتی فوجی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست بہار میں ضلع ویشالی کے قصبے جنڈاہا میں سرکاری اراضی پر اپنے بیٹے کے لیے ایک یادگار تعمیر کرنے پر پولیس نے مذکورہ فوجی کے والد کو تشدد کا نشانہ بناکرگرفتار کر لیا۔تاہم پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ غیر قانونی تجاوزات کا مسئلہ ہے جس میں زمیندار کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس آفیسرشریمتی مہوا نے کہاکہ 23 جنوری کوجنڈاہا میں ہری ناتھ رام کی زمین اور سرکاری زمین پر بنائے جانے والے مجسمہ پر درجہ فہرست ذات اوردرجہ فہرست قبائل پرمظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیاکیونکہ مجسمہ بنانے والوں نے کوئی اجازت نہیں مانگی تھی۔انہوں نے کہاکہ اگر وہ چاہتے تو اسے اپنی زمین میں بنا سکتے تھے یا حکومت سے زمین مانگ سکتے تھے۔ اس صورت میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ غیر قانونی تجاوزات کی وجہ سے زمین کے مالک کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ہلاک ہونے والے فوجی جے کشور سنگھ کے بھائی نند کشور نے جو خود بھی فوج میں ہیں،کہا پولیس نے ان کے والد کو مارا پیٹا گیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ انہوں نے کہاکہ ڈی ایس پی صاحبہ نے ہم سے ملاقات کی اور 15دن کے اندر مجسمہ ہٹانے کو کہا۔ میں نے انہیں بتایاکہ میں دستاویزات دکھاؤں گا۔ بعد میں تھانہ انچارج ہمارے گھر آیا اور میرے والد کو گرفتار کرنے سے پہلے مارا پیٹا۔ انہوں نے میرے والد کو گالیاں بھی دیں۔