اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسٹیٹ بنک نے سوشل میڈیا پرزیرگردش 10 ہزار روپے والے نوٹکی قلعی کھول دی

کراچی (پی پی آئی)سوشل میڈیا پر 10 ہزار روپے کے پاکستانی کرنسی نوٹ کے حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا موقف بھی سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر 10 ہزار روپے کے پاکستانی کرنسی نوٹ کی تصویر گردش کر رہی ہے جس کے حوالے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ا سٹیٹ بینک آف پاکستان 10 ہزار روپے مالیت کا نیا کرنسی نوٹ جاری کرنے والا ہے۔اس تصویر کو دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین پاکستانی معیشت کی زبوں حالی اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی دہائی دے رہے ہیں تاہم اگر اس نوٹ کو غور سے دیکھیں تو کئی ایسی چیزیں نظر آئیں گی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے نوٹ کی یہ تصویر جعلی ہے۔ مثال کے طور پر اس نوٹ پر گورنر سٹیٹ بینک کا نام یاسین انور درج ہے جو 19 اکتوبر 2011 سے 31 جنوری 2014 تک سٹیٹ بینک کے گورنر رہ چکے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر جمیل احمد ہیں۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی بھی نئے نوٹ پر موجودہ گورنرسٹیٹ بینک کا نام درج ہوتا ہے نہ کہ سابق گورنر کا۔اس حوالے سے جب سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک 10 ہزار روپے مالیت کا کوئی نیا کرنسی نوٹ جاری نہیں کررہا، عوام ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں اور اس طرح کی خبروں کی تصدیق کیلئے ا سٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاونٹس کو وزٹ کریں۔یاد رہے کہ 10 ہزار روپے کا نیا کرنسی نوٹ جاری ہونے کی افواہیں 2018 میں بھی منظر عام پر آئی تھیں۔