شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

میانوالی میں باپ کی فائرنگ سے زخمی لیڈی ڈاکٹر انتقال کر گئیں

میانوالی(پی پی آئی) میانوالی میں باپ کی فائرنگ سے زخمی ڈاکٹر سدرہ نیازی انتقال کر گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر سدرہ نیازی کو اپنے ہی باپ نے دس روز قبل فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر سدرہ نیازی مزید پڑھائی کے لیے ہاسٹل میں شفٹ ہونا چاہتی تھی جب کہ والد بیٹی کے ہاسٹل میں منتقل ہونے کے خلاف تھے۔باپ کی فائرنگ سے ڈاکٹر سدرہ نیازی شدید زخمی ہو گئی تھی۔20 اگست کو زخمی لیڈی ڈاکٹر کو میانوالی سے راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ 9 روز انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج تھیں۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر سدرہ نیازی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔کئی روز زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج وہ انتقال کر گئیں۔ڈاکٹر سدرہ نیازی کیبھائی کی مدعیت میں والد کے خلاف مقدمہ درج ہے تاہم ملزم کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔اہلخانہ کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سدرہ نیازی کی نمازِ جنازہ و تدفین میانوالی میں کی جائے گی۔دوسری جانب جاتلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئی3 ہفتے قبل غیرت کے نام پر اپنی 2 بہنوں کو قتل کرنے والے ملزم کوگرفتارکرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس پی صدر کی زیرنگرانی جاتلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئی3ہفتے قبل غیر ت کے نام پر اپنی 2بہنوں کو قتل کرنے والے ملزم رضوان کو گرفتارکرلیا،ملزم رضوان اپنی بہن سعدیہ اور نازیہ کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا،ملزم رضوان اپنی بہنوں پر شک کرتا تھا،واقعہ کا مقتولین کے والد کی مدعیت میں تھانہ جاتلی میں درج کیاگیا تھا۔ایس پی صدر محمد نبیل کھوکھر نے کہاکہ گرفتار ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروے کار لائے جا رہے ہیں۔