شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے: چیف جسٹس

ؒؒاسلام آباد(پی پی آئی)چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دیے کہ نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔کیس کی سماعت کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔ ضرورپڑھیں:سائفر کیس، عمران خان کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیعدوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے 50 کروڑ سے کم کرپشن کے مقدمات واپس لے لیے،کس قانون کے تحت یہ تفریق بنائی گئی ہے؟ اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پاکستان میں احتساب کے نظام کا محافظ نیب ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ احتساب کے قوانین میں سب سے سخت قانون نیب کا ہی ہے، نیب کے دائرے سے نکلنے والیکسی اورقانون کے تحت احتساب کے عمل میں شامل ہوں گے، کیا 50 کروڑ کی حد اس لیے مقررکی گئی کہ بڑی مچھلی کو پکڑا جائے؟ کیا 50 کروڑ سے کم کی کرپشن کرنے والوں کی عزت افزائی کی جارہی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ٹرائل کی رفتاربہت سست ہوتی ہے، نیب ترامیم 2022 میں انکوائری کے وقت ملزم کی گرفتاری کو نکالا گیا، جولائی2023 میں نیب قانون میں دوبارہ انکوائری سطح پرگرفتاری کوشامل کیا گیا، نیب کیسز میں انکوائری کی سطح پرگرفتاری کے نقص کونکال کردوبارہ شامل کیا گیا، انکوائری سطح پرگرفتاری نیب کی گرفت اور سیاستدانوں کیگردگھیرا تنگ کرنے کے لیے کی گئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے۔