سانحہ جڑانوالہ پر سینیٹ کا اجلاسطلب کرنے کی درخواست ’مسترد‘

 اسلام آباد (پی پی آئی)سینیٹ سیکریٹریٹ نے جڑانوالہ سانحے پر بحث کے لیے ایوان بالا کا اجلاس بلانے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ درخواست مسترد کیے جانے پر بہت سے لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جب کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے کہا کہ ریکوزیشن پر دستخط کرنے والے 27 ارکان میں سے کچھ کے دستخط مختلف تھے جب کہ متعلقہ ممبران سے رابطہ کیے بغیر دستخطوں کی تصدیق کرنے کے سیکریٹریٹ کے اختیار پر سوالات کھڑے ہوگئے۔پی پی آئی کے مطابق پیپلز پارٹی نے اجلاس بلانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا، 27 سینیٹرز نے یکم ستمبر کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں آئین کے آرٹیکل 61 اور آرٹیکل 54 کی شق 3 کے تحت دستخط شدہ ریکوزیشن نوٹس جمع کرایا تھا، یہ نوٹس پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے پانچ سینیٹرز جن کے دستخط مبینہ طور پر مختلف تھے، ان میں فاروق ایچ نائیک، میاں رضا ربانی، پلوشہ محمد زئی خان، روبینہ خالد اور شمیم آفریدی شامل تھے، اس کے علاوہ سینیٹر محمد اکرم کے دستخط کو بھی مختلف قرار دیا گیا۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے ان 6 سینیٹرز میں سے کسی ایک کو بھی اس بات کی تصدیق کے لیے نہیں بلایا کہ انہوں نے ریکوزیشن نوٹس پر دستخط کیے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عناصر جڑانوالہ کے شرمناک واقعے پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے، اس کی وجہ کیا ہے، وہ عناصر ہی بہتر جانتے ہوں گے جب کہ اس سانحے کے دوران گرجا گھروں کی بے حرمتی کی گئی، مسیحی برادری کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو لوٹا گیا۔