ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ای او بی آئی کووفاقی حکومت کی میچنگ گرانٹ نہ ملنے سے کئی کھرب روپے خسارہ کا سامنا

کراچی (پی پی آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے ای او بی آئی کو1995سے میچنگ گرانٹ کی بندش کے باعث پنشن فنڈ کو کئی کھرب روپے کے خسارہ کا سامنا ہے، آایکچوریل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی تقو مستقبل میں پنشن فنڈ ختم ہونے کا خدشہ ہے، نجی شعبہ کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ، معذوری اور ان کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کو تاحیات پنشن فراہم کرنے والے قومی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کو  درپیش  مالی مسائلمیں 1995سے وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی میچنگ گرانٹ کی بندش سر فہرست ہے جبکہ آجران کی اکثریت کی جانب سے اپنے اداروں اور ملازمین کی رجسٹریشن سے ہر ممکن بچنے کی پالیسی اور قلیل تعداد میں رجسٹرڈ آجران کی جانب سے موجودہ کم از کم اجرت کے بجائے پرانی شرح سے کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے باعث ای او بی آئی پنشن فنڈ کو دو کھرب روپے سے زائد کے خسارہ کا سامنا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ادارہ کے سابق افسر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان، اسرار ایوبی نے کہا کہ ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ مجریہ 1976کے مطابق وفاقی حکومت ای او بی آئی کی جانب سے رجسٹرڈ آجران کی جانب سے وصول کردہ سالانہ کنٹری بیوشن کے مساوی رقم سالانہ میچنگ گرانٹ کے طور پر باقاعدگی سے فراہم کیا کرتی تھی۔ لیکن 1995میں اچانک ایک فنانس بل کے ذریعہ یہ میچنگ گرانٹ بند کردی گئی اور اب وفاقی حکومت ای او بی آئی کو دکھاوے کے طور پر محض ایک لاکھ روپے سالانہ میچنگ گرانٹ ادا کر رہی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔  اسرار ایوبی نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق ہر تین برس کے وقفہ کے بعد ای او بی آئی کے واجبات اور اثاثہ جات کی ایکچوریل ویلیویشن کرانا لازمی ہے۔ جس کے بغیر کنٹری بیوشن اور پنشن کی شرح میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا  30 جون 2022ء  میں ای او بی آئی کے واجبات اور اثاثہ جات کی گیارہویں تخمینہ کاری کرائی گئی تھی۔ جس کی رپورٹ میں ایکچوریل ماہرین نے پنشن فنڈ میں 2.517 کھرب روپے کے خسارہ کا  انکشاف کیا  تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ای او بی آئی کے بیمہ دار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ای او بی آئی پر مستقبل کے لاکھوں پنشنرز کی پنشن کی ادائیگی کی قانونی ذمہ داری 2.965 کھرب روپے بنتی ہے جبکہ اس وقت پنشن فنڈ کی ویلیو صرف 0.448 کھرب روپے بتائی گئی ہے۔ ایکچوریل ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ماہانہ کنٹری بیوشن کی موجودہ شرح 6 فیصد مستقبل میں بھی برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ آئندہ پانچ تا دس برسوں کے دوران پنشن فنڈ میں کمی واقع ہونا شروع ہوجائے گی اور آئندہ گیارہ تا سولہ برسوں کے دوران پنشن فنڈ کے مکمل خاتمہ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سمندرپار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان ساجد حسین طوری نے بھی 27 جولائی 2022  کو قومی اسمبلی میں دیئے گئے اپنے بیان میں 2033 میں پنشن فنڈ میں کمی واقع ہونے اور 2039  میں اس کے مکمل خاتمہ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔اسرار ایوبی نے موجودہ محدود پنشن منصوبہ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسے ہمہ گیر شکل دے کر 18 برس کی عمر کے ہر برسر روزگار پاکستانی، ذاتی کام کے حامل شہریوں، غیر منظم شعبہ سے وابستہ اور ہوم بیسڈ کارکنوں کی پنشن منصوبہ میں ازخود رجسٹریشن اور ازخود کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے یونیورسل نظام متعارف کرایا جائے اور لاکھوں ملازمین کے ای او بی آئی پنشن فنڈ کے استحکام کے لئے ماہانہ کنٹری بیوشن کی موجودہ شرح  6 فیصد ماہانہ میں اضافہ کرکے 10 فیصد کیا جائے جس میں آجر کا حصہ 8 فیصد اور ملازم کا حصہ 2 فیصد مقرر کیا جائے اور اپنے تمام ملازمین کی رجسٹریشن نہ کرانے والے اور کنٹری بیوشن کے نادہندہ آجران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔