شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا بیان 18 اکتوبر کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد (پی پی آئی)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے کہا ہے کہ سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا بیان 18 اکتوبر کو ریکارڈ کیا جائے گا جب کہ وکیل دفاع آج کی سماعت سے غیر حاضر رہے۔پی پی آئی کے مطابق سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر راناحسن عباس سیشن جج اعظم خان کی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ وکیل صفائی بشارت اللہ سپریم کورٹ میں مصروفیات کے باعث آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔وکیل صفائی بشارت اللہ کے معاون وکیل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئندہ سماعت پر ملزم شاہنواز امیر کا 342 کا بیان جمع کروا دیں گے۔سیشن جج اعظم خان نے درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکیل صفائی کو عدالت پیش ہونیکی ہدایت کردی۔عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کا 342 کا بیان قلمبند کرنے کے لیے نئی تاریخ 18 اکتوبر مقرر کردی۔واضح رہے کہ سارہ انعام کینیڈین شہری تھیں، جنہیں گزشتہ برس ستمبر میں چک شہزاد میں فارم ہاؤس میں شاہنواز امیر نے قتل کردیا تھا۔جج اعظم خان نے گزشتہ روز سماعت کے دوران قتل کیس میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے، اور اب عدالت نے شاہنواز کو طلب کر لیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا تھا۔سیاستدان اور صحافی ایاز امیر کے صاحبزادے شاہنواز امیر کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔