کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 سکیورٹی فورسز کی کارروائی، بلوچ لبریشن آرمی کا اہم سرغنہ ساتھی سمیت جہنم واصل

راولپنڈی)پی پی آ ئی) سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کے خلاف خفیہ معلومات پر آپریشن کے دوران دہشتگرد صدام حسین مسلم ہلاک کر دیا گیا۔سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشتگرد صدام حسین کا ایک اور ساتھی دہشتگرد مقصود بھی مارا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا۔ہلاک دہشتگرد صدام حسین مسلم، گرو اور جبار جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا، آپریشن میں مارا جانے والا بلوچ لبریشن آرمی کا دہشتگرد صدام حسین 2008 میں بلوچ لبریشن فرنٹ کاحصہ بنا۔پاکستان دشمنوں کی جانب سے دو دہائیوں سے مسلط کی گئی دہشتگردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز نے مختلف دہشتگرد گروپوں میں شامل دہشتگردوں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا ہے۔اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ”ہلاک کئے جانے والے دہشت گردوں میں بڑی تعداد براہ راست پاکستانیوں پر حملے کرنے والے دہشتگردوں کی ہے جس کی وجہ سے دہشتگرد گروپوں کے درمیان اختلافات بڑھ چکے ہیں۔“بلوچ لبریشن آرمی اور ان کی آقا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“، بی ایل اے کی نچلے درجے کی بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی صورت میں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔دہشتگرد صدام حسین نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تربیت بلوچستان کے علاقے مشکے میں قائم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے دہشتگرد ٹریننگ کیمپ میں حاصل کی۔سال 2014 میں دہشتگرد صدام حسین بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوگیا جسے 2017 ء میں ضلع کیچ میں خفیہ تربیتی کیمپ کا کمانڈر اور 2021ء میں مقامی کمانڈر بنا دیا گیا، 2016 سے اب تک دہشتگرد صدام حسین جنوبی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 93 دہشتگردی کی وارداتوں بشمول گرنیڈ حملے، بارودی سرنگوں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا، ان حملوں میں 131 معصوم لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ 177 لوگ زخمی بھی ہوئے۔