وطن واپس لوٹنے والے بیشتر افغان مہاجرین ذہنی دباؤ کا شکار

 لنڈی کوتل (پی پی آئی)خیبر قبائلی ضلع کی لنڈی کوتل تحصیل میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے صحت کیمپ کے ڈاکٹرز کے مطابق اپنے ملک لوٹنے والے بیشتر افغان پناہ گزین ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہیں۔افغان مہاجرین کی ملک بدری کے لیے لگائے گئے کیمپ میں طبی سہولیات کے سربراہ ڈاکٹر حماد گل مہمند نے کہا کہ تقریباً 30 سے 40 فیصد لوگ ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔پی پی آئی کے مطابق     ڈاکٹر حماد گل نے کہا کہ واپس لوٹنے والوں میں بہت سے لوگوں میں ذہنی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔بیشتر افغان پناہ گزین ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی افغان نسل پاکستان میں پیدا ہوئی، وہ پاکستان کو ہی اپنا اصل ملک سمجھتے ہیں، افغانستان ان کے لیے ایک غیر ملک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی بہت سی نوجوان لڑکیاں ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئیں اور افغانستان میں اپنے کزنز سے شادی کرلی لیکن اْن کے لیے افغانستان نیا ملک ہے اس لیے اْن کے اندر نئے ملک کو اپنانے میں مشکلات کی وجہ سے مختلف نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے۔ ایسی لڑکیوں کو طبی مراکز میں لایا جاتا ہے جن کو گھبراہٹ، ڈپریشن اور تنہائی کی بیماری ہوتی ہے اور ان کے ماں باپ پاکستان میں آباد ہوتے ہیں، وہ اپنے والدین سے دور ہونے کی باعث اضطراب کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اپنی زندگی شروع سے شروع کرنا بھی تناؤ کا باعث بنتا ہے، مالی لحاظ سے تنگی اور رہائش کی خراب صورتحال بھی بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں رہائش کے حوالے سے درپیش دیگر مسائل میں ثقافتی فرق اور افغان معاشرے میں عائد مختلف پابندیاں بھی شامل ہیں۔