متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

غزہ میں خدمات کے خواہشمند 2800 پاکستانی ڈاکٹرمصری ویزے کے منتظر

 اسلام آباد (پی پی آئی)غزہ میں اسرائیل میں جاری بمباری کے نتیجے میں ہزاروں معصوم بچوں اور زخمی فلسطینیوں کی مدد کرنے اور جنگی شہر میں 24 گھنٹے کام کرنے والے ڈاکٹرز کی مدد کرنے کے لیے پاکستان سے 2 ہزار 800 ڈاکٹرز نے رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر زاہد لطیف نے وضاحت کی کہ اب تک مصر نے پاکستان کو ویزا جاری نہیں کیا اور نہ ہی رفح بارڈر کے ذریعے غزہ میں داخلے کی اجازت دی ہے۔لیکن غزہ میں صرف طبی پیشہ ور افراد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دیگر قسم کے وسائل بھی درکار ہیں۔ڈاکٹر نسیم نے کہا کہ ’ہمیں مشینوں، ادویات، آپریشن تھیٹر کی لائٹس، آکسیجن وغیرہ سمیت دیگر آلات اور کام کرنے کی جگہ کی بھی ضرورت ہے۔أانہوں نے کہا کہ اگر غزہ میں طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں تو اس کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹروں کو رفح بارڈر پر ہسپتال جیسی سہولت قائم کرنے کی اجازت دی جائے جو کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان 12 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور زخمی فلسطینیوں کو علاج کی ضرورت ہے  خیال رہے کہ نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعہ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے لیے مصری اور اردنی حکام سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسرائیل اس وقت غزہ کو امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔