جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حیدرآباد چیمبر آف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا

  حیدرآباد(پی پی آئی) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وفاقی حکومت کے اِس اِقدام سے مہنگائی کی لہر کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا جمعے کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 14 روپے کی کمی اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 13 روپے 50 پیسے کی کمی کا اعلان ہونا کاروباری برادری اور عوام دونوں کے لیے باعث اطمینان ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ یہ اقدام معاشرے کے تمام طبقے کے لیے فائدے مند ہوگا، خصوصاً تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے جن کی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کا خرچہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے بے تحاشہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے آرڈرز مقررہ وقت اور قیمتوں پر مکمل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتی ہے تو پاکستان میں ہر شے کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں لیکن جب قیمتیں کم کی جاتی ہیں تواِس کا اَثر بڑھی ہوئی قیمتوں پر نہیں ہوتا حتیٰ کہ مکمل انتظامیہ بھی اِس کا اطلاق کروانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ حکومت پاکستان کو اِس پر باقاعدہ ایک میکنزم بنانا چاہیئے تاکہ اِس کا فائدہ ہر طبقے کو ہو۔ اُنہوں نے کہا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اَب بھی انٹرنیشنل مارکیٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق لے کر آئے۔اُنہوں نے کہا کہ دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنی پیٹرولیم کی ضروریات کو متبادل اَنرجی کے ذرائع سے تبدیل کر رہے ہیں اور 2030 میں بیشتر یورپی ممالک نے اپنے ملکوں میں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کا متبادل اَنرجی پر کام کرنا ہوگا تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے اِس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔