آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت

 اسلام آباد (پی پی آئی)سائفر کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت سنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا  کا حکم سنایا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے زبانی مختصر فیصلہ سنایا، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ ہمارے وکلا موجود نہیں ہم کیسے بیان ریکارڈ کرائیں گے؟،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے کہا کہ آپ کے وکلاحاضر نہیں ہو رہے، آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی۔ وکلاصفائی نے سوال کیا کہ ہم جرح کر لیتے ہیں جس پر جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔ بعدازاں بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔ یاد رہیکہ اس سے قبل عمران خان نے سائفر کیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔