پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت

 اسلام آباد (پی پی آئی)سائفر کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت سنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا  کا حکم سنایا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے زبانی مختصر فیصلہ سنایا، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ ہمارے وکلا موجود نہیں ہم کیسے بیان ریکارڈ کرائیں گے؟،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے کہا کہ آپ کے وکلاحاضر نہیں ہو رہے، آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی۔ وکلاصفائی نے سوال کیا کہ ہم جرح کر لیتے ہیں جس پر جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔ بعدازاں بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔ یاد رہیکہ اس سے قبل عمران خان نے سائفر کیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔