ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی اقدامات پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس

کراچی، 10اپریل (پی پی آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں اپیکس کمیٹی کا 32 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں دہشت گردی، منشیات اور دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینئر وزراء، آرمی اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سندھ میں موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کو کنٹرول کیا گیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے کراچی میں دو سینٹرز کام کر رہے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں مزید بحالی سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔پولیس تھانوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے دس تھانوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور باقی پر کام جاری ہے۔ اسلحہ کی نمائش، پریشر ہارن، فینسی نمبر پلیٹس پر سیکشن 144 نافذ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 1474 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور 34.6 ملین روپے جرمانے وصول کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے نجی گاڑیوں پر سول ڈریس میں گارڈز کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی۔ سندھ حکومت نے حب پر مشترکہ چیک پوسٹ کے قیام کے لیے 214 ملین روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔فیوژن سینٹر کے قیام سے ایجنسیوں کے درمیان بہتر رابطہ سے نارکوٹکس جرائم کی کھوج مزید مؤثر ہوگی۔ سال 2025ء میں انسداد دہشت گردی کے 23 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 7 چالان کیے گئے اور 4 کو سزائیں ہوئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال 318 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں 153 مقدمات درج کرکے 84 مجرم گرفتار کیے گئے اور 12 مارے گئے۔چائنیز کی سکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں میں کام کرنے والے چائنیز کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 3.6 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔