سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کے سی سی آئی کی افراط زرمیں ریکارڈ کمی پر شرح سود میں معمولی کٹوتی کی مذمت کی

کراچی، 5 مئی (پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی شرح سود میں صرف 1 فیصد کمی کرنے کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس ایڈجسٹمنٹ سے شرح سودجو 11 فیصد پرآئی ہے، کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی نے اسے ناکافی قرار دی اور کہا کہ یہ کاروباری برادری کی اقتصادی بحالی کی توقعات سے کم ہے۔اگرچہ بلوانی نے شرح سود کی کٹوتی کو مثبت اقدام تسلیم کیا، لیکن انہوں نے اسے پاکستان کی موجودہ معاشی حالت کے تناظر میں ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق اپریل میں افراط زر کی بے مثال کم شرح، جو 0.3 فیصد تک گر گئی تھی، کو شرح سود میں زیادہ نمایاں کمی کا باعث بننا چاہیے تھا۔ اتنی زیادہ حقیقی شرح سود کو سرمایہ کاری، پیداوار، اور روزگار کے مواقع کے لیے رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔بلوانی نے کہابھارت، بنگلہ دیش، ویتنام، اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی پالیسی شرحیں کم ہیں، جو ان کے کاروباری ماحول کو  فروغ دے رہی ہیں، جبکہ پاکستانی صنعتیں اب بھی زیادہ مالیاتی اخراجات کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں۔کے سی سی آئی کے صدر نے مزید چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر شدید اثرات پرکیجانب اشارہ کیا اور کہاکہ یہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔بلوانی نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو مزید کم کیا جائے تاکہ تجارت کو مزید فروغ دینے میں مددملے۔