مظفرآباد، 7 مئی (پی پی آئی) صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے حالیہ بھارتی جارحیت کو ہندوتوا پالیسیوں کا پردہ چاک کرنے والا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی رات کی تاریکی میں حملہ کرنے کی کارروائی نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کر کے اور نہتے شہریوں پر حملہ کر کے اپنی اصلیت دکھا دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب دیا، جس سے بھارت کو یہ پیغام مل گیا کہ پاک افواج کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔بیرسٹر سلطان محمود نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری طلبہ کو بھارت کی یونیورسٹیز سے نکالا جانا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کشمیری طلبہ کو آزاد کشمیر کی یونیورسٹیز میں داخلے کی دعوت دی اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں ثالثی کرائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت فراہم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مودی حکومت کے اقدامات خطے میں امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں بین الاقوامی سطح پر اس کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے فسطائی ہتھکنڈوں کو روکنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔بیرسٹر سلطان محمود نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خطے میں امن کے قیام اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرے تاکہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بد امنی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور اس کا حل ہی دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
Next Post
یونیورسٹی آف تربت میں ٹیکنیکل اسکلز کی تربیت کا آغاز
Wed May 7 , 2025
تربت، 7 مئی (پی پی آئی) پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ “اسکلز ڈیولپمنٹ کورسز” پر مرکوز، یونیورسٹی آف تربت (یو او ٹی) میں شروع ہوئی۔ یہ ورکشاپ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کی جانب سے یو او ٹی کی ڈائریکٹوریٹ […]
