اسلام آباد، 8 اگست 2025 (پی پی آئی): اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے سابق صدر اور ممتاز بزنس لیڈر شاہد رشید بٹ کے مطابق ہندوستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف میں اضافہ ہندوستان کی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور پاکستان جیسے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
روس سے تیل کی خریداری اور دوبارہ فروخت پر ہندوستان پر عائد 25 فیصد نئی لیوی، امریکی مال پر کل ٹیرف کو 50 فیصد تک لے آتی ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی حیثیت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
بٹ نے وضاحت کی کہ ہندوستانی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی منڈیوں میں ان کی مسابقت میں کمی واقع ہوگی، جس سے ہندوستان کی معاشی ترقی متاثر ہوگی اور ممکنہ طور پر ملازمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ اس کے برعکس، پاکستان جیسے ممالک اپنی برآمدات میں اضافہ کر کے اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ روس سے ہندوستان کی بڑے پیمانے پر تیل کی خریداری بالواسطہ طور پر یوکرین میں جنگ کی حمایت کرتی ہے، جس سے روسی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔
ہندوستان نے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے، لیکن مالیاتی مارکیٹ صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ بٹ نے زور دے کر کہا کہ ٹیکسٹائل، چمڑا، مشینری، زیورات، ادویات اور زرعی سامان سمیت ہندوستان کی 55 فیصد برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2025 میں ہندوستان کی جی ڈی پی کی ترقی 6 فیصد سے نیچے گر سکتی ہے۔
ہندوستان نے امریکی فیصلے سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ بٹ نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان کو خطے کی طاقت یا سخت حکمت عملیوں پر توجہ دینے کے بجائے جنوبی ایشیا میں پرامن تعاون اور مشترکہ ترقی کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہندوستان، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے تقریباً دو ارب باشندوں پر مشتمل خطے کی خوشحالی اور استحکام کے لیے یہ نقطہ نظر ضروری ہے۔
آنے والے ہفتوں میں ہندوستان کے ردعمل کا تعین ہوگا، جس کے نتیجے میں معاشی اور جیو پولیٹیکل اثرات غیر مستحکم بین الاقوامی منظر نامے میں تجارت، شراکت داری اور ترقیاتی اہداف پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
