اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

[آئینی قانون، صوبائی امور] -ستائیسویں آئینی ترمیم سندھ کے وسائل پر قبضہ کی سازش ہے:جمعیت علمائے اسلام سندھ

ٹھٹھہ، 13-نومبر-2025 (پی پی آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا ہے -گھوڑا باری میں آج سالانہ “سیرت مصطفیٰ ﷺ کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ کہ صدر کو خصوصی استثنیٰ دے کر قانون سے بالاتر قرار دیا گیا ہے جو سندھ کے حقوق، زمینوں، وسائل اور سمندری جزائر پر قبضہ کرنے کی سازش ہے۔

جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے مجوزہ آئینی تبدیلی کی سختی سے مذمت کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت آئین، مذہب یا صوبے کے مفادات سے متصادم کسی بھی ترمیم، پالیسی یا حکومتی فیصلے کی مخالفت کرتی ہے۔

سومرو نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کے حکومتی اقدامات نہ صرف آئین کی روح کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے حکمرانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے غیر ضروری قانون سازی میں تبدیلیوں کے ذریعے سیاسی اور معاشی بحران پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، “تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آئین، اسلام یا وطن پر حملہ ہوا، جمعیت علمائے اسلام نے میدان میں اتر کر قوم کے جذبات کی نمائندگی کی ہے،” انہوں نے سندھ کے حقوق، آئینی بالادستی اور اس کی اسلامی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

صوبائی سیکرٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ سندھ پاکستان کا معاشی دل ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جماعت صوبے کے وسائل اور مفادات کے خلاف ہر حکومتی اسکیم کو کھلے عام چیلنج کرے گی۔ انہوں نے دینی مدارس کا دفاع کرتے ہوئے انہیں “روشن خیال اسلامی تعلیم کے قلعے” قرار دیا جو پسماندہ بچوں کو مفت تعلیم اور دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں۔

صوبے میں لاقانونیت عروج پر ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سومرو نے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی-ف واحد سیاسی قوت ہے جس نے قومی اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ پارٹی ایسے فیصلوں کو روکنے کے لیے “آئینی، جمہوری اور عوامی طاقت” کا استعمال کرے گی اور 1973 کے آئین کے دفاع کے لیے اپنی مرحلہ وار جدوجہد جاری رکھے گی۔

کانفرنس سے سلیم سندھی، سلیم عاطف، اور عبدالوہاب بلوچ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔