واشنگٹن، ڈی سی، 9 دسمبر 2025 (پی پی آئی): بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آج پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جو ملک کی میکرو اکنامک اصلاحات کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کا اعتراف ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے دوسرے جائزے (EFF) اور ریسیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (RSF) کے پہلے جائزے کی تکمیل کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان کو فی الفور تقریباً 1 ارب ڈالر ای ایف ایف کے تحت اور 2 ارب ڈالر آر ایس ایف کے تحت فراہم کیے جائیں گے، جس کے ساتھ دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ڈسبرسمنٹ 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان کا 37 ماہ پر مشتمل ای ایف ایف 25 ستمبر 2024 کو منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد معاشی لچک میں اضافہ اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ اس پروگرام کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں:
(i) بہتر میکرو اکنامک پالیسیوں کے ذریعے معاشی استحکام کا فروغ، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، اور ٹیکس بیس میں توسیع؛
(ii) مسابقت، پیداواریت اور صنعتی مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اصلاحات؛
(iii) سرکاری اداروں (SOEs) میں اصلاحات، عوامی خدمات کی بہتری، انسانی اور فزیکل کیپیٹل کی ترقی، اور توانائی کے شعبے کی بحالی۔
ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے عالمی معاشی مشکل حالات اور حالیہ شدید سیلاب کے باوجود معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد بحال کرنے میں قابلِ ذکر پیش رفت دکھائی ہے۔ مالی کارکردگی مضبوط رہی اور مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کیا گیا۔ مہنگائی میں اضافہ سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا، تاہم اسے عارضی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2025 کے اختتام پر 14.5 ارب ڈالر تھے، جو ایک سال قبل 9.4 ارب ڈالر تھے، اور توقع ہے کہ مالی سال 2026 اور اس کے بعد بھی یہ ذخائر مزید بہتر ہوں گے۔
ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئرمین مسٹر نائجل کلارک نے کہا:ای ایف ایف کے تحت اصلاحات نے پاکستان کو حالیہ جھٹکوں کے باوجود میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ معاشی ترقی میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی توقعات قابو میں رہی ہیں، اور مالی و بیرونی عدم توازن میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ غیر یقینی عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کو دانشمندانہ پالیسیاں جاری رکھتے ہوئے نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات میں تیزی لانا ہوگی۔
مالی سال 2026 کے لیے پرائمری بیلنس کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت کا عزم، حالیہ سیلاب کے باعث امدادی ضروریات کے باوجود، مالی پالیسی کی ساکھ مضبوط کرنے کی ایک واضح علامت ہے۔ ٹیکس پالیسی میں سادگی اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا مالی پائیداری کے لیے ضروری ہے، تاکہ پاکستان زیادہ مؤثر سماجی تحفظ، موسمیاتی لچک اور عوامی سرمایہ کاری پر وسائل خرچ کر سکے۔
اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور ضروری ہے کہ اسے برقرار رکھا جائے تاکہ مہنگائی ہدف کے اندر رہے۔ مالیاتی شعبے کی مضبوط نگرانی اور مارکیٹ کی گہرائی میں اضافہ بھی اہم ہے۔ زرمبادلہ کے نرخ کو لچکدار رکھنا اور انٹربینک مارکیٹ کو بہتر بنانا معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
“توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔ بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے گردشی قرضے کے بہاؤ اور حجم کو کم کرنے میں مدد ملی ہے، مگر پیداوار اور ترسیل کی لاگت کم کرنا اور شعبے میں موجود غیر مؤثریت کو ختم کرنا اب فوری ضرورت ہے۔
گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کی اشاعت اصلاحاتی عمل میں ایک مثبت قدم ہے۔ مزید بہتری کے لیے سرکاری اداروں کی گورننس، نجکاری، کاروباری ماحول اور معاشی ڈیٹا میں شفافیت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
پاکستان کی موسمیاتی کمزوری، جسے حالیہ سیلاب نے واضح کر دیا ہے، کم کرنا معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ آر ایس ایف اس سلسلے میں قدرتی آفات کے ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے، پانی کے مؤثر استعمال، بجٹ سازی میں موسمیاتی عوامل کو شامل کرنے اور مالیاتی فیصلوں میں موسمیاتی خطرات سے متعلق معلومات بہتر بنانے میں معاون ہے۔”
