کراچی، 12 فروری 2026 (پی پی آئی): پاکستان میں خواتین کے حقوق کی علمبردار بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ان کے 121ویں یوم پیدائش پر خراج تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے خواتین کے لیے غیر معمولی فوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کی بنیاد رکھی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سفیر کا ممتاز کردار ادا کیا۔
قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں صدر محفوظ النبی خان نے انہیں ملکی تاریخ میں خواتین کو بااختیاربنانے کی سب سے بڑی علمبردار قرار دیا۔
خان نے تعلیم کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تعلیمی اداروں میں گھریلو اقتصادیات (ہوم اکنامکس) کو ایک تعلیمی مضمون کے طور پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کاٹیج انڈسٹری (گھریلو صنعت) کی بنیاد رکھنے کا سہرا بھی ان کے سر باندھا اور کہا کہ اگر اس صنعت کو فروغ ملتا تو پاکستان جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا تھا۔
خواتین کے کردار کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی کوششیں مسلح افواج تک پھیل گئیں، جہاں انہوں نے پاکستان ویمن نیشنل گارڈ اور ویمن نیول ریزرو جیسی تنظیمیں قائم کیں۔ ان اقدامات کے ذریعے خواتین کو فوجی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی، جو ترقی پذیر دنیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان انتہائی باہمت خاتون تھیں۔ اپنے شوہر کی شہادت کے بعد انہوں نے سرکاری اعزازیہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ملازمت کو ترجیح دی، اور سفیر کے طور پر خدمات انجام دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کا قیام ان کی ایک اور بڑی کامیابی ہے، جس نے مسلم دنیا میں خواتین کی پہلی اہم تنظیم کی بنیاد رکھی۔ عالمی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ نے انہیں ایک اعلیٰ بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا، جس میں انہیں عالم اسلام کی پہلی خاتون انسانی حقوق کی محافظ تسلیم کیا گیا۔
