کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستانی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ، پاکستان سنہری موقع سے فائدہ اٹھائے، پی سی ڈی ایم اے

کراچی، 2-اپریل-2026 (پی پی آئی): پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی پورٹ پر حالیہ دنوں میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان کے لیے ایک بڑا مثبت اشارہ ہے
کراچی پورٹ پر مارچ 2024 کے پہلے 24 دنوں میں اتنا حجم ہینڈل کیا گیا جو کہ پچھلے پورے سال کے برابر ہے۔

پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائیز مرچنٹس ایسوسی ایشن
کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اس ڈرامائی تبدیلی کی وجہ عالمی شپنگ لائنز کی جانب سے علاقائی عدم استحکام اور دبئی میں مبینہ بندش کے باعث پاکستان کو متبادل راستے کے طور پر منتخب کرنے کو قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں،
چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کراچی پورٹ نے صرف مارچ کے ابتدائی 24 دنوں میں 8,313 کنٹینرز کو پراسیس کیا۔ انہوں نے ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اس غیر معمولی اضافے کو ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا مثبت اشارہ قرار دیا۔

مزید برآں، جناب محمد نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر بھی کارگو کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے انہوں نے بین الاقوامی بحری کمپنیوں کے پاکستان کی بندرگاہی سہولیات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت قرار دیا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات نافذ کرکے اس “غیر معمولی موقع” سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، بندرگاہ سے متعلقہ چارجز اور ڈیوٹیز کو کم کرنے، اور مکمل تحقیق پر مبنی پالیسیاں اپنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مشترکہ کوشش پاکستان کو خطے میں ایک مستقل ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر قائم کر سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس طرح کی ترقی سے ملک کی درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو نمایاں فائدہ پہنچے گا اور قومی معیشت کو ایک نئی تحریک ملے گی۔