کراچی، 21 اپریل 2026 (پی پی آئی): سندھ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور چھوٹے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے مقصد سے ایک اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں گندم کی فروخت کی حدوں اور پانچ بوری فی ایکڑ کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے آج اس اقدام کو “انتہائی اہم فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار سرکاری مراکز میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کرنے کی اجازت ملے گی۔
انہوں نے حکومت کی “کسان دوست پالیسیوں” پر روشنی ڈالی، جس کے ثبوت کے طور پر گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے اور 10 لاکھ میٹرک ٹن کی خریداری کا ہدف پیش کیا۔
گندم کی خریداری مہم کو تیز کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
کم خریداری والے اضلاع میں بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مجموعی ہدف کو یقینی بنایا جا سکے۔
مسٹر میمن نے سندھ بینک کے ذریعے کسانوں کو ایک ہی دن میں ایندھن کی سبسڈی فراہم کرنے کی تعریف کی، اسے “شفافیت اور کارکردگی کی بہترین مثال” قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں روپے کی بروقت ادائیگیوں نے کسانوں کے اعتماد کو کامیابی سے بڑھایا ہے۔
کسی بھی مشکل کو پیشگی روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو میدان میں متحرک کر دیا گیا ہے۔
کسانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ فوری ادائیگی اور حکومتی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی گندم سرکاری خریداری مراکز پر فروخت کریں۔
مسٹر میمن نے تصدیق کی کہ صوبائی انتظامیہ زراعت سے وابستہ افراد کے مفادات کے تحفظ اور پورے سندھ میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
