خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈیڑھ دہائی بعد بے بنیاد الزامات اور میڈیا ٹرائل کا ڈراپ سین ہو گیا، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

کراچی، 10-جون-2026 (پی پی آئی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیئے جانے کے تاریخی فیصلے کا شاندار الفاظ میں خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سچائی کی فتح اور برسوں سے جاری منظم میڈیا ٹرائل کے منہ پر طمانچہ قرار دیا ہے، مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں ترجمان نے کہا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری ملکی تاریخ کا ایک ایسا دردناک انسانی المیہ تھا جس پر ایم کیو ایم کا ہر کارکن اور رہنماء آج بھی اتنے ہی رنج و غم میں مبتلا ہے جتنے متاثرہ خاندان ہیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ اس سانحے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایم کیو ایم کو سیاسی طور پر کچلنے اور بدنام کرنے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، ترجمان متحدہ نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو سرخرو ہونے اور دامن کی سچائی ثابت کرنے میں تقریباً ڈیڑھ دہائی کا طویل عرصہ لگا، انصاف میں تاخیر دراصل انصاف کا قتل ہے، اس چودہ سالہ طویل اور کٹھن دورانیے میں نہ صرف تحریک کو بلکہ معصوم مقتولین کے خاندانوں کو بھی شدید ذہنی اور نفسیاتی کرب سے گزارا گیا جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، بیان میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کیس کی آڑ میں ایم کیو ایم پاکستان کا بدترین سیاسی استحصال کیا گیا تنظیم کی حب الوطنی پر سوالات اٹھائے گئے میڈیا پر یکطرفہ ٹرائل کیا گیا اور عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا، آج سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب سیاسی انتقام اور مہم جوئی کے سوا کچھ نہ تھا، ایم کیو ایم پاکستان نے مقتدرہ عدلیہ اور قانون ساز اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی سیاسی جماعت کو محض مفروضوں اور سیاسی انجینئرنگ کے تحت اس طرح کے گھناؤنے ہتھکنڈوں کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں، ترجمان نے زور دیا کہ ایسے سخت قوانین وضع کئے جائیں جن کے تحت کسی بھی انسانی سانحے کا سیاسی میڈیا ٹرائل کرنے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والے عناصر کا کڑا محاسبہ یقینی بنایا جا سکے، ترجمان نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان پہلے دن سے شہدائے بلدیہ کے لواحقین کے ساتھ کھڑی تھی اور آج بھی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے، ہم عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کی حقیقی داد رسی اور بحالی کے عمل کو مزید شفاف اور تیز کیا جائے، ترجمان متحدہ نے عزم ظاہر کیا کہ تمام تر نامساعد حالات سیاسی جبر اور جھوٹے الزامات کے طوفان کے باوجود عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے سے کارکنان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، قانون قدرت نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کے دامن کو صاف اور شفاف ثابت کر دیا ہے اور پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو اب اپنے کیئے پر عوام اور تاریخ کے سامنے ندامت ہونی چاہیئے۔