نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں موسمیاتی خطرے کی گھنٹی: قدرتی آفات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں

کراچی، 25 جون (پی پی آئی): پاکستان میں 1980 سے 2026 کے دوران قدرتی آفات کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی نقصانات ہوئے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے آغاز سے آفات کے واقعات میں بتدریج اضافہ شروع ہوا، جبکہ بعد کے برسوں میں ان کی شدت اور تکرار میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اقتصادی سروے پاکستان 2026 کے مطابق، سال 2000 کے بعد قدرتی آفات میں واضح تیزی دیکھی گئی، جب سالانہ آفات کی تعداد بارہا 6 سے 11 واقعات کے درمیان رہی۔ 2000 کی دہائی کے وسط اور خصوصاً 2015 کے بعد کئی ایسے سال سامنے آئے جن میں سیلاب، طوفان، گرمی کی شدید لہریں، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر انتہائی موسمی واقعات مسلسل رونما ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق 2023 گزشتہ 43 برسوں میں سب سے زیادہ آفات والا سال ثابت ہوا، جس میں 13 قدرتی آفات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ صورتحال ملک میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں شامل رجحانی گراف ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی آفات اب وقتی یا دورانیہ وار واقعات نہیں رہیں بلکہ ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے موسمیاتی مزاحمت، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مربوط خطرہ انتظامی نظام کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 2025 میں لا نینا (La Niña) کے اثرات کے باعث عالمی درجہ حرارت میں عارضی کمی دیکھی گئی، تاہم دنیا کے تقریباً 90 فیصد سمندری علاقوں نے کم از کم ایک مرتبہ شدید سمندری گرمی کی لہر (Marine Heatwave) کا سامنا کیا۔ اسی طرح عالمی سطح پر سمندر کی اوسط سطح 2024 کی ریکارڈ بلند سطح کے قریب برقرار رہی، جس سے ساحلی ماحولیاتی نظام متاثر ہوئے، زیرِ زمین پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھی اور سیلابی خطرات میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق گلیشیئرز کے حجم میں مسلسل کمی اور سمندری برف کے پگھلاؤ نے کرائیوسفیر (Cryosphere) میں تیز رفتار تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ 2024-25 کے ہائیڈرولوجیکل سال میں گلیشیئرز کا نقصان 1950 کے بعد بدترین پانچ سالوں میں شامل رہا۔ ماہرین کے مطابق سمندروں کی بڑھتی ہوئی گرمی اور سطحِ سمندر میں اضافہ آئندہ صدیوں تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اس کے کئی اثرات طویل المدتی اور ناقابلِ واپسی ہوں گے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمین کے نظام میں تیزی سے رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں انسانی اور قدرتی نظاموں پر یکے بعد دیگرے اثرات مرتب کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ، آبادیوں کی نقل مکانی اور معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں، خصوصاً ان ممالک میں جو موسمیاتی خطرات کے لحاظ سے زیادہ حساس اور موافقتی صلاحیت کے اعتبار سے کمزور ہیں۔

ہوا کی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں یہ مسئلہ عالمی سطح پر ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھرا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ 2025 میں اسے دنیا کے اہم ترین خطرات میں شامل کیا گیا، جبکہ IQAir ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ 2025 نے عالمی فضائی معیار میں مزید بگاڑ کی نشاندہی کی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 14 فیصد شہر عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی جانب سے مقرر کردہ سالانہ اوسط PM2.5 معیار (5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر) پر پورا اتر سکے، جو 2024 میں 17 فیصد تھا۔ افریقہ اور وسطی و جنوبی ایشیا بدستور سب سے زیادہ آلودہ خطے رہے، جبکہ دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں میں سے 17 جنوبی اور وسطی ایشیا میں واقع تھے۔

پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2025 میں قومی سالانہ اوسط درجہ حرارت 23.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو طویل المدتی اوسط سے 1.09 ڈگری زیادہ تھا اور گزشتہ 65 برسوں میں دوسرا گرم ترین سال قرار پایا۔ دوسری جانب مجموعی بارشیں اوسط کے قریب رہیں، تاہم ان میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ آف پاکستان کلائمیٹ رپورٹ 2025 کے مطابق:

سبی (بلوچستان) ملک کا گرم ترین مقام رہا، جہاں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
سکردو (گلگت بلتستان) سرد ترین مقام رہا، جہاں اوسط کم سے کم درجہ حرارت 7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
ملم جبہ (خیبر پختونخوا) میں سالانہ سب سے زیادہ بارش 1461 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
سیالکوٹ میں 27 اگست 2025 کو ایک دن میں 363.3 ملی میٹر بارش ہوئی، جو سال کا سب سے زیادہ یومیہ ریکارڈ تھا۔
پنجگور (بلوچستان) ملک کا خشک ترین مقام رہا، جہاں صرف 0.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2025 کے دوران ملک بھر میں تیز ہواؤں کے غیر معمولی واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ لاہور ایئرپورٹ پر 75 ناٹس، سیالکوٹ ایئرپورٹ اور پڈعیدن میں 70 ناٹس جبکہ ملتان ایئرپورٹ پر 65 ناٹس تک ہواؤں کی رفتار ریکارڈ کی گئی، جو سال کے دوران شدید موسمی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔

مجموعی طور پر رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں درجہ حرارت، بارشوں اور شدید موسمی واقعات میں نمایاں تبدیلیاں مستقبل کے لیے سنجیدہ چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔