جڑانوالہ (پی پی آئی) سانحہ جڑانوالہ کے بعد مسلمانوں نے مسیحی برادری کی عبادت کے لیے مسجد کھولنے کی پیشکش کردی اور وفد نے چرچ انچارج سے کہا کہ صبح مسجد کھول دیں گے، آپ وہاں آئیں اور اپنی عبادت کریں۔پی پی آئی کے مطابق جڑانوالہ کے تاریخی چرچ سالویشن آرمی کے انچارج میجر معشوق مسیح نے بتایا کہ ’یہاں پر ایک مسجد ہے، ان کا وفدہمارے 2 دفعہ پاس آیا جنھوں نے کہا کہ ہم صبح نو بجے آپ کے لیے مسجد کھول دیں گے، آپ وہاں آئیں، جس طرح آپ چرچ میں عبادت کرتے ہیں، اسی طرح آپ یہاں عبادت کریں،’میں نے ان سے کہا کہ آپ ایک مرتبہ سب سے مشورہ کر لیں، یہ نہ ہو کہ پہلے چرچ پر حملہ ہوا اور اب مسجد پر ہو جائے تو وہ دوبارہ آئے کہ سب سے بات چیت کرکے آئے ہیں، دوبارہ آکر کہا کہ ہم ہر قسم کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں، آپ آئیں۔’ ہم آپ کے لیے مسجد کھولتے ہیں کیونکہ ہمارے نبی نے مسیحیوں کو عبادت کے لیے جگہ دی تھی، اس لیے آپ لوگ آئیں، ہم مسجد کھولیں گے‘۔ان کاکہناتھاکہ ’ہمارے پاس انتظامیہ کے لوگ بھی آئے تھے کہ ہم چرچ کی مرمت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے انکار کر دیا،ہم نے ان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ یہ چرچ مکمل طور پر گرا کر دوبارہ بنائیں کیونکہ اوپر والی منزل پر تقریباً 200 افرادعبادت کرتے ہیں اور اس وقت اس جگہ دیواریں اور چھتیں کمزور ہیں، اگر وہ کسی دن گرگئیں تو پھر کوئی سانحہ ہوسکتا ہے۔
نوید اکرم چیمہ کا بطور منیجر کام کر نے سے معذرت
’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
تازہ ترین خبریں
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
بغاوت، دہشت گردی کیس میں ایمان مزاری، علی وزیر کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد (پی پی آئی)انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد نے بغاوت، دھمکانے اور اشتعال پھیلانے کی دفعات کے تحت تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے میں سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری اور سابق رکن اسمبلی علی وزیر کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔پی پی آئی کے مطابق ایمان مزاری اور علی وزیر کو اے ٹی سی جج ابوالحسنات کی عدالت میں پیش کیا گیا، سماعت شروع ہونے سے قبل ایمان مزاری اپنی والدہ شیریں مزاری سے مل کر آبدیدہ ہوگئیں۔ایمان مزاری کی قانونی ٹیم میں زینب جنجوعہ اور مرزا عاصم بیگ شامل تھے، زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری کو نائٹ سوٹ میں گرفتار کیا گیا، نائٹ سوٹ میں ہی عدالت لایا گیا، پولیس شاید بھول گئی کہ ان کے گھر میں بھی مائیں، بہنیں ہیں۔، دوران مکالمہ علی وزیر نے جج کو غلطی سے اسپیکر کہہ دیا جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ علی وزیر سابق رکن قومی اسمبلی رہ چکے، اس لیے اسپیکر کہہ دیا۔اے ٹی سی جج ابوالحسنات نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں بھی سن رہا ہوں، آپ اسپیکر کہہ سکتے ہیں،۔
ابراہیم حیدری کراچی میں شہری کی فائرنگ سے زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی (پی پی آئی) شہر قائد میں شہری نے ڈاکو پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے ڈاکو زخم ہو گیا، پولیس نے زخمی ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔پی پی آئی کے مطابق کراچی میں شہری اپنی حفاظت خود کرنے کے فارمولے پر عمل کرنے لگے۔ ابراہیم حیدری میں ڈاکو نے شہری سے لوٹ مار کی کوشش کی تو شہری نے ڈاکو کو باتوں میں الجھا کر اس کی توجہ بٹائی اور موقع ملنے پر فائرنگ کر دی، گولیوں کی زد میں آ کر ڈاکو زخمی ہو گیا۔شہری نے پولیس کو واردات کی اطلاع کی، پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمی ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔
جہانگیر روڈ فٹ بال اسٹیڈیم کی خستہ حالی پرسیکریٹری بلدیات سے جواب طلب
کراچی (پی پی آئی) شہر قائد میں جہانگیر روڈ کے حسن زئی فٹ بال اسٹیڈیم کی خستہ حالی پرشہری عدالت پہنچ گئے جس پرعدالت نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر کے تین ماہ کے اندر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔پی پی آئی کے مطابق درخواست گزار واقف شاہ کا کہنا ہے کہ فٹبال اسٹیڈیم کی حالت نا گفتہ بہ ہے،ڈی ایم سی نے 47 ملین روپے کی سمری سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کوبھیجی ہے،لیکن تاحال منظوری نہیں ملی۔درخواست گزار واقف شاہ کا کہنا ہے کہ فٹ بال اسٹیڈیم کیلئے آئندہ مالی سال میں الگ فنڈ مختص کیا جائے،کیونکہ فٹ بال اسٹیڈیم کے اطراف متوسط طبقہ رہتا ہے۔فٹ بال اسٹیڈیم کی مرمت نہ ہونے سے وہاں منشیات کے عادیوں کا ڈیرہ ہے اور منفی سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔
تلاش کریں
خبریں
نوید اکرم چیمہ کا بطور منیجر کام کر نے سے معذرت
لاہور(پی پی آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے مزید کام کرنے سے معذرت کرلی ۔پاکستان کرکٹ بورڑ نے نوید اکرم چیمہ کو 2011میں قومی ٹیم کا منیجر مقرر کیا تھا اس سے پہلے وہ واپڈا میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے ، اب ان کی وفاقی ہاﺅسنگ میں تقرری عمل میں آئی ہے جس کی بنا ہر انھوں نے بطور منیجر مذید کا م کرنے سے معذرت کر لی ہے اور پی سی بی حکام کو باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے ۔

’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔ جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور 102 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی۔ سپریم کورٹ کے بنچ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد صدر اور وزیراعظم اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق صدر اور وزیر اعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم کی تقرری میں بھی صدر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر نگران وزیرِ اعظم کا تقرر جانے والے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کے مشورے پر اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اندر کرنے کا پابند ہو گا۔ اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر بھی وزیرِ اعظم کے مشورے سے ہو گا۔ صدارتی ریفرنس میں تیرہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں صدر نے اعلیِ عدالت سے کئی معاملات پر رائے طلب کی تھی۔ ان میں جسٹس ریاض اور جسٹس کاسی کی سینیارٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ بنچ نے 14 دسمبر 2012 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔
