اسلام آباد(پی پی آئی)سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل آئی جی 25 ہزار روپے پٹیشنر شیریں مزاری کو دیں۔2 اگست کو ایک ہفتے میں آئی جی اسلام آباد کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا، 10 اگست تک جواب جمع نہیں کرایا، ایک ہفتہ مہلت کی استدعا بھی عدالت نے منظور کی، 29 اگست کو بھی آئی جی اسلام آباد نے جواب جمع نہیں کرایا۔عدالت نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو آج بھی جواب جمع نہ کرانے پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ آئی جی انکوائری کرائیں کہ عدالتی حکم کے مطابق جواب جمع کیوں نہیں ہوا؟ انکوائری کر کے ایکشن لے کر 2 ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تین صفحات پر مشتمل تحریری آرڈر جاری کر دیا، جس میں آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
کرسٹیانورونالڈو کا امریکا میں بیس بال کیرئر کا آغاز
نوید اکرم چیمہ کا بطور منیجر کام کر نے سے معذرت
’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
تازہ ترین خبریں
پاکستانی خواتین کو باعزت روزگار اور تحفظ فراہم کیا جائے:پاسبان
قومی اسمبلی کے اجلاس میں مطالبات زر پر بحث جاری
- April 25, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
محکمہ تعلیم سندھ نے طلبہ کی جسمانی سزاؤں پر پابندی عائد کر دی
کراچی(پی پی آئی)محکمہ تعلیم سندھ نے سکول میں طلبہ پر جسمانی سزا کا نوٹس لیتے ہوئے جسمانی سزاؤں پر پابندی عائد کر دی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیوٹ سکولز پروفیسر رفیعہ ملاح نے نجی سکولوں کی انتظامیہ کو مراسلہ جاری کر دیا۔نجی سکولوں کو جاری کردہ مراسلے کے مطابق سزاؤں کے حوالے سے والدین کی لاتعداد شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سکولوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں جسمانی سزا پر پابندی کی شرط ہوگی، طلبہ کو جسمانی سزا دی گئی تو سکول کی رجسٹریشن معطل کر دی جائے گی۔
پنجاب انتخابات کیس: الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل مسترد
اسلام آباد(پی پی آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ کا حصہ تھے۔سماعت کے آغاز پر وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی کا کہنا تھا کہ دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں۔وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں انتخابات کی تاریخ دینے کی حد تک اضافہ کیا گیا ہے، جس پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا اس سب کا نظر ثانی کیس سے تعلق نہیں بنتا۔الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے کا وقت دے دیں تاکہ دلائل تیار کر سکوں۔جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ جو فیصلہ آیا وہ کیس ختم ہو چکا۔چیف جسٹس پاکستان نے وکیل الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ آپ اپنا جواب ابھی عدالت میں ہمارے ساتھ ہی پڑھیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا سیکشن 58،57 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا آئین الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کی ذمہ داری دیتا ہے اختیار نہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں سے متعلق واضح ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ آپ 3 بار بتا چکے کہ الیکشن کمیشن کے پاس طاقت نہیں ذمہ داری ہے اب آگے چلیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے کا اختیار نہیں دیتا۔جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے یا نہیں، سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ آگے نہیں بڑھا سکتا، آپ نظر ثانی کیس میں ہمارے سامنے آئے ہیں دوبارہ سے دلائل مت دیں۔جسٹس منیب اختر کا وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک ہی دائرے کے گرد گھومنا بند کریں، آئین کسی کی جاگیر نہیں ہے، کوئی بھی آئین سے انحراف یا تجاوز نہیں کر سکتا، آئین پر عملدرآمد میں مشکل ہو تو عدالت جانا چاہیے۔فاضل جج نے مزید کہا کہ عدالت نے متعدد بار پوچھا الیکشن کمیشن کو پنجاب انتخابات کیلئے فنڈز اور سکیورٹی دی جائے تو انتخابات کرائیں گے یا نہیں، الیکشن کمیشن نے کہا فنڈز اور سکیورٹی ملے تو انتخابات کرا دیں گے۔سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جب بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی عدالت مداخلت کرے گی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو حکم دیا تھا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرائے جائیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔
ایمان مزاری کو اسلام آباد سے باہر لے جانے سے روکنے کے حکم میں پیر تک توسیع
اسلام آباد(پی پی آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کو دارالحکومت سے باہر لے جانے سے روکنے کے حکم میں پیر تک توسیع کر دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی جس میں وزارتِ داخلہ کے حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔عدالت نے سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ ایمان مزاری کو اسلام آباد سے باہر نہ لے جایا جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کیے اور 20 اگست کے بعد کسی وقوعہ میں ایمان مزاری کو گرفتار نہ کرنے کے حکم میں بھی توسیع کر دی گئی۔عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ پیر تک ایمان مزاری کے خلاف صوبوں سے مقدمات کی تفصیل لے کر آگاہ کریں۔سماعت کے آغاز میں عدالت نے وزاردت داخلہ حکام سے استفسار کیا کہ آپ نے ایمان مزاری کے خلاف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات منگوائیں ہیں؟ جس پر وزارت داخلہ حکام نے بتایا کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے، وفاقی حکومت ایسے معاملات میں صوبوں کو حکم نہیں دے سکتی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وزارت داخلہ حکام کیسی بات کر رہے ہیں؟۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کاکہنا تھا کہ ہم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا ہے، آرڈر دیر سے ملا ہے کچھ وقت دے دیا جائے، ایمان مزاری کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے۔عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ کو کیا ہدایات ہیں؟ جیل میں ہے آپ تفتیش کریں چالان جمع کرائیں ٹرائل کرائیں، عدالت سے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں کہنا چاہیے، میں اس سے متعلق کچھ نہیں کہوں گا، سیکرٹری داخلہ کو بتائیں کہ ایمان مزاری کے کیس میں کورٹ آرڈر کیا ہے؟ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری کو 20 اگست کے بعد کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔
تلاش کریں
خبریں
کرسٹیانورونالڈو کا امریکا میں بیس بال کیرئر کا آغاز
لاس اینجلس(پی پی آئی)عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈونے لاس اینجلس کی بیس بال ٹیم میں ڈیبو کر لیا۔کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں میزبان ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے کرسٹیانو رونالڈو جب میدان میں آئے تو اپنے فیورٹ کھلاڑی کو دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین موجود تھے ۔ اسٹار کھلاڑی فٹ بال کے بعد اپنا بیس بالکا شوق پورا کرنے کے لیے لاس اینجلس میں نمائشی بیس بال سیریز میںحصہ لے رہے ہیں ۔نمائشی میچ میں انھوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔
نوید اکرم چیمہ کا بطور منیجر کام کر نے سے معذرت
لاہور(پی پی آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے مزید کام کرنے سے معذرت کرلی ۔پاکستان کرکٹ بورڑ نے نوید اکرم چیمہ کو 2011میں قومی ٹیم کا منیجر مقرر کیا تھا اس سے پہلے وہ واپڈا میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے ، اب ان کی وفاقی ہاﺅسنگ میں تقرری عمل میں آئی ہے جس کی بنا ہر انھوں نے بطور منیجر مذید کا م کرنے سے معذرت کر لی ہے اور پی سی بی حکام کو باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے ۔

’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔ جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور 102 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی۔ سپریم کورٹ کے بنچ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد صدر اور وزیراعظم اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق صدر اور وزیر اعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم کی تقرری میں بھی صدر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر نگران وزیرِ اعظم کا تقرر جانے والے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کے مشورے پر اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اندر کرنے کا پابند ہو گا۔ اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر بھی وزیرِ اعظم کے مشورے سے ہو گا۔ صدارتی ریفرنس میں تیرہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں صدر نے اعلیِ عدالت سے کئی معاملات پر رائے طلب کی تھی۔ ان میں جسٹس ریاض اور جسٹس کاسی کی سینیارٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ بنچ نے 14 دسمبر 2012 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔
