امیگریشن بیورو کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک عرب اخبار نے لکھاہے کہ پاکستان ملک میں بڑھتی مہنگائی، کم تنخواہوں اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہر روز سینکڑوں پاکستانی ملک چھوڑ رہے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق بہتر مستقبل اور روزگار کے سلسلے میں سب سے زیادہ افرادنے سعودی عرب کا رخ کیا،دوسرے نمبر پر عرب امارات، تیسرے پر قطر، چوتھے پر ریاست عمان جبکہ پانچویں نمبر پر ملائیشیا رہے۔پاکستان سے سب سے کم افراد جنوبی کوریا، جاپان، جرمنی، چین، اٹلی اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک کی جانب منتقل ہوئے۔روزگار کے سلسلے میں چین جانے والے پاکستانیوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان سے بیرون ممالک روزگار کے سلسلے میں جانے والے افراد میں سب سے زیادہ 96 ہزار ڈرائیورز، 5 ہزار کے قریب باورچی 7 ہزار سے زائد کارپینٹرز اور 10 ہزار کے قریب الیکٹریشن بھی بیر بھی شامل ہیں۔
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
تیل اورگیس کی مقامی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پرمعمولی کمی
کراچی (پی پی آئی) ملک میں تیل اورگیس کی مقامی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پرمعمولی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔موصولہ اعدادوشمارکے مطابق ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار70146 بیرل ریکارڈکی گئی جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.5 فیصدکم ہے،پیوستہ ہفتہ میں ملک میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار70513 بیرل ریکارڈکی گئی تھی۔پی پی آئی کے مطابق ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار3311 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.5 فیصدکم ہے،پیوستہ ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار3328 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی تھی۔اعدادوشمارکے مطابق ختم ہونے والے ہفتہ میں اوجی ڈی سی ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار32846 بیرل، پی پی ایل 11711 بیرل، پی اوایل 5084 بیرل اورماڑی گیس کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار985 بیرل ریکارڈکی گئی،اسی طرح ختم ہونے والے ہفتہ میں اوجی ڈی سی ایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار712 ایم ایم سی ایف ڈی، پی پی ایل 657، پی اوایل 66 اور ماڑی گیس کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار926 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی۔
انتخابی گہما گہمی کا فقدان،سیاسی جماعتوں کی معنی خیز خموشی،نواز شریف کی واپسی موخر
کراچی (پی پی آئی)پاکستان میں منتخب قومی اسمبلی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو چکی ہے۔ اب نئی اسمبلی کے انتخاب کے لیے نئے الیکشنز کا انتظار ہو رہا ہے۔عام طور پر قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد اگلے الیکشن کی گہما گہمی ہوتی ہے لیکن اس بار بالکل ہی نہیں۔سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ لاہور اورکراچی جو سیاسی سرگرمیوں کے گڑھ مانے جاتے ہیں وہاں بھی سکوت ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کا دفتر آباد دکھائی نہیں دیتا۔۔ اس ساری صورت حال سے ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا ملک عام انتخابات واقعی کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں رہے؟ اور کیا الیکشن ہو بھی رہے ہیں یا نہیں؟ کہاجارہا ہے کہ الیکشن اگلے سال ہوں گے اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی کا مطلب ہے کہ اندرونی طور پر ان کی مقتدرہ سے مفاہمت ہوچکی ہے۔‘ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی عوامی رابطہ مہم شروع نہیں کی ہے۔۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جو اس وقت ملک کی معاشی صورت حال ہے، خاص طور پر بجلی کے بلوں نے لوگوں کو متاثر کیا ہے اس سے بھی سیاسی معاملات ماند پڑے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات اور جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’اس وقت فیصلہ ساز چاہے وہ سیاسی ہوں یا اسٹیبلشمنٹ ان کے سامنے ملکی معیشت کی صورت حال ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی پاکستان میں اتنا سیاسی سناٹا نہیں دیکھا گیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جو ستمبر کے مہینے میں وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے اب اسے بھی ملتوی کر دیا ہے۔
نواز شریف کی واپسی سے قبل سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور مہم چلانے کا فیصلہ
لندن (پی پی آئی)مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور بھرپور مہم چلائی جائے گی، کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔پی پی آئی کے مطابق عام انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں ن لیگ انتخابی مہم میں اپنے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں کو ڈاکومینٹری کی صورت میں سامنے لائے گی، انتخابی مہم میں سابقہ چند اہم شخصیات کو ہدف تنقید بنایا جائے گا۔پارٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ مریم نواز انتخابی مہم میں بڑی اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز اور نوازشریف کے خلاف کی گئی سازش کو بے نقاب کریں گی نواز شریف اور مریم نواز اپنے ساتھ ہونے والی سازش کے پس پردہ محرکات کو سامنے لائیں گے۔مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عوامی اجتماعات میں مصالحانہ رویہ اپنائیں گے، شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنے دور کے ترقیاتی منصوبوں پر بات کریں گے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور بھرپور مہم چلائی جائے گی، کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔
تلاش کریں
خبریں

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘