میامی کے ہم عصر ہفتہ فن میں ہبلوٹ کی جانب سے معروف فنکار مسٹر برین واش کا جشن

پاکستان میں پہلے بڑے پیمانے کے شمسی فارم کے لیے جے اے سولر کے 100 میگاواٹ کے ماڈیولز کی فراہمی

ایئر کینیڈا دہلی کے لیے نان-اسٹاپ سروس شروع کرے گا

ڈی ڈی بی یورو بیسٹ سال کا بہترین نیٹ ورک اور سال کی بہترین ایجنسی قرار

ورڈ نیٹ ورک افریقہ اور برطانیہ میں فیتھ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک پر

عالمی مذہبی رہنماؤں نے جدید غلامی کے خاتمے کے لیے اعلان پر دستخط کردیے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

میامی کے ہم عصر ہفتہ فن میں ہبلوٹ کی جانب سے معروف فنکار مسٹر برین واش کا جشن

میامی، 6 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ باکستان — گزشتہ شب پرتعیش سوئس گھڑیوں کے برانڈ ہبلوٹ نے برانڈ کے بال ہاربر بوتیک میں خصوصی اور دلچسپ تنصیب کی رونمائی کے ذریعے پیرس میں پیدا ہونے والے عوامی مصور مسٹر برین واش کی تعظیم و تکریم کی ۔ میامی کے ہم عصر ہفتہ فن کے جشن میں ہبلوٹ نے مسٹر برین واش کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ بوتیک کے سامنے کے پورے حصے کو فن کا ایک نمونہ ظاہر کیا جائے۔ ہبلوٹ کے سی ای او  ریکاردو گوادالوپ اور ہبلوٹ بال ہاربر بوتیک کے شراکت دار رک دے لا کروئے نے بال ہاربر بوتیک میں برانڈ کے جشن کے آغاز کے لیے مہمانوں کو مدعو کیا، جہاں جناب گوادالوپ، جناب دے لا کروئے اور مسٹر برین واش نے خصوصی مہمان ایوا لونگوریا کے ساتھ عوام کے لیے پہلی بار تنصیب کی رونمائی کی۔ مہمانوں کو کاکٹیلز اور کاناپیز کا لطف اٹھانے اور ساتھ ساتھ نمائش کے لیے لگائے گئے فن پاروں اور ہبلوٹ کی گھڑیاں دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ تقریب ریکاردو گوادالوپ اور مسٹر برین واش کی جانب سے ایوا لونگوریا کو ایک فن پارہ پیش کرنے کے ساتھ مکمل ہوئی جو ایوا لونگوریا فاؤنڈیشن کے لیے مفید ہوگا۔ ریکاردو گوادالوپ نے کہا کہ “ہم ملک کے نمایاں ترین ہم عصر ہفتہ فن کے دوران یہاں میامی میں اپنی دوست ایوالونگوریا کے ساتھ مل کر مسٹر بریش واش کا جشن منانے پر خوش ہیں۔ مسٹر برین واش اپنی نسل کے معروف مصوروں میں سے ایک ہے، جو اپنے انوکھے اور مختلف انداز کی وجہ سے معروف ہیں، اور عوام کے لیے متبادل اسٹریٹ آرٹ تحریک میں مدد دے رہے ہیں۔ ہمیں اس عظیم مصور کے ساتھ اپنا تعلق جاری رکھنے  پر ، اور آج یہاں انہیں اعزاز بخشنے پر بھی، خوشی ہے ۔” مسٹر برین واش میڈونا کی البم “سیلیبریشن” کے سرورق کے پس پردہ مصور کی حیثیت سے معروف ہیں، اور ساتھ ساتھ ریڈ ہاٹ چلی پیپرز پر کیے گئے اپنے کام کے حوالے سے بھی۔ انہوں نے ڈیوڈ گوئٹا اور نکی رومیرو کے “میٹروپولس” کی وڈیو کی ہدایات دیں اور بینکسی کی مشہور فلم “ایگزٹ تھرو دی گفٹ شاپ” کے ستارے ہیں۔ اس شراکت داری کے ذریعے ہبلوٹ آرٹ آف فیوژن اور مصوری و تعیش سے محبت کو ملانا جاری رکھتا ہے۔ بال ہاربر تقریب کے بعد ہبلوٹ ایک نجی کشتی پر ایک شاندار عشائیے کی میزبانی کے لیے ہاٹ لونگ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے جشن کو جاری رکھا جس کے بعد میامی کے ساحل پر جے آر اور لورن ریڈنگر کے گھر، معروف کاسا دے سینوس اسٹیٹ میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ مہمانوں میں ایوا لونگوریا، مسٹر برین واش، مائلی سائرس، رسل سیمنز، سوئس بیٹس، سیمی سوسا اور پیٹرک شوارزنیگر شامل تھے جنہیں ساحل کے ساتھ واقع اس خوبصورت مقام پر عیش، مصوری اور موسیقی کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ تصاویر کے لیے ربط: https://app.box.com/s/opcul3lxmd15z5dv6flr

مزید پڑھیں

پاکستان میں پہلے بڑے پیمانے کے شمسی فارم کے لیے جے اے سولر کے 100 میگاواٹ کے ماڈیولز کی فراہمی

شنگھائی، 8 دسمبر 2014ء/ پی آرنیوزوائر/ایشیانیٹ پاکستان — اعلیٰ کارکردگی کی حامل شمسی توانائی کی مصنوعات تیار کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ادارے جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) (“جے اے سولر” یا “جے اے”) نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر بنائے گئے پاکستان کے پہلے شمسی فارم کے لیے 100 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کیے ہیں۔ 500 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا شمسی فارم بہاولپور، پاکستان میں قائد اعظم سولر پارک میں واقع ہے۔ شمسی پارک ملک میں توانائی کی قلت سے نمٹنے کے لیے خدمات فراہم کرے گا اور چین-پاکستان اقتصادی گزرگاہ کا کلیدی منصوبہ ہے، جو چین کو جنوبی پاکستان سے منسلک کرنے اور تجارت کے لیے نیا راستہ تخلیق کرنے کے لیے توانائی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا زیر تعمیر ترقیاتی پروگرام ہے۔ پاکستان میں توانائی کی طلب سالانہ اندازاً 8 فیصد بڑھ رہی ہے، جس نے اندازاً ملک کو 6 گیگاواٹ توانائی پیداوار کے خسارے سے دوچار کردیا ہے۔ پنجاب، وہ صوبہ جہاں یہ منصوبہ واقع ہے، دنیا میں سب سے زیادہ شمسی روشنی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ سال میں تقریباً 3,000 گھنٹے سورج کی روشنی کے ساتھ یہ علاقہ پی وی بجلی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ یہ منصوبہ ایک بنجر علاقے میں واقع ہے جہاں درجہ حرارت گرمیوں کے دوران 50 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس انتہائی گرم اور خشک ماحول کے لیے بہت معیاری ماڈیولز کی ضرورت ہے۔ جے اے سولر نے پی وی لیب جرمنی جی ایم بی ایچکی نگرانی میں یہ ماڈیولز فراہم کیے ہیں، جو ایک مستند تھرڈ-پارٹی تسلیم شدہ لیبارٹری ہے جو خام مال کے انتخاب، تیاری کے عمل اور معیار کی جانچ کے کڑے معیارات مقرر کرتی ہے۔ جے اے سولر اپنی بھروسہ مندی،کنورژن کی شاندارموثریت اورسخت تجربات سےگزر کے بجلی کی اعلیٰ پیداوار اور مصنوعات کی بروقت ترسیل ثابت کرچکا ہے۔  تجربات میں الیکٹرولیومنی سینس انسپیکشن اور 3xIEC معیاری تھریشر ٹیسٹ شامل ہیں۔ جناب یونگ لیو، چیف آپریشنز آفیسر جے اے سولر نے تبصرہ کیا کہ “پاکستان میں سخت اور تپش کا حامل ماحول ہمارے شمسی ماڈیولز کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اپنے 100 میگاواٹ کے ماڈیولز کی کامیاب ترسیل ہماری مصنوعات کے اعلیٰ معیار اور بھروسہ مندی کا تجربہ ہے۔” جناب جیان سی، صدر جے اے سولر نے کہا کہ “قائد اعظم سولر پارک پاکستان کے توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی توجہ مبذول کروانے کا اہم طریقہ ہے۔ پاکستان کے لیے 100 میگاواٹ ترسیل مکمل کرکے جے اے نے نئی مارکیٹوں میں قدم پھیلانے کی کوششوں میں نیا سنگ میل حاصل کیا ہے۔ پاکستان میں پہلے بڑے پیمانے کے سولر فارم کے لیے ماڈیول فراہم کنندہ کی حیثیت سے ہم نے ثابت کیا کہ قیمت کے لحاظ سے موثر ہماری مصنوعات توانائی میں اضافے اور تنصیب کے اخراجات میں کمی کے ذریعے ہمارے نچلے دھارے کے صارفین کے لیے اچھی اہمیت شامل کریں گی۔”  رابطہ: ایریکا ہو 60955888- 21- 86+ / 86-21-60955999+ [email protected]؛ [email protected]

مزید پڑھیں

ایئر کینیڈا دہلی کے لیے نان-اسٹاپ سروس شروع کرے گا

– نیا ڈریم لائن روٹ ٹورنٹو کے عالمی مرکز سے بین الاقوامی توسیع کو تحریک دیتا ہے مونٹریال، 5 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — ایئر کینیڈا نے آج کہا ہے کہ وہ نومبر 2015ء سے ٹورنٹو دہلی کے لیے نان-اسٹاپ سروس کا آغاز کرے گا۔ یہ نیا روٹ، جو ایئر کینیڈا کے بوئنگ 787-9 سلسلے کے طیاروں کے لیے مخصوص پہلا  روٹ ہوگا، برصغیر میں نئے مواقع کھولے گا، جو اس وقت ایسی سب سے بڑی بین الاقوامی مارکیٹ ہے جہاں ایئر کینیڈا کی خدمات موجود نہیں۔ “ایئر کینیڈا کی اپنے ٹورنٹو پیئرسن مرکز اور بین الاقوامی موجودگی کو بڑھانے کی حکمت عملی اپنے موجودہ عالمی نیٹ ورک میں دہلی کے اضافے کے ساتھ آگے کی جانب ایک بڑا قدم لے رہی ہے۔ ہم طویل فضائی سفر کو انقلابی صورت دینے والے اپنے جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کے ذریعے کینیڈا سے بھارت تک واحد نان-اسٹاپ پرواز پیش کریں گے۔ ان نئے طیاروں کو چلانے کی اقتصادیات ان سروس کو ممکن بناتی ہے اور یہ ان طیاروں کے زیادہ بڑے 787-9 ورژن کے لیے وقف پہلا روٹ ہوگا، جو ہمارے بیڑے میں 2015ء میں شامل ہوں گے۔” ایئر کینیڈا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کالن رووینسکو نے کہا۔ “یہ سروس بھارت کے دارالحکومت اور دنیا کے چوتھی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے شہری علاقے دہلی کی سیاحت اور وہاں کاروبار کرنے والے دونوں صارفین کے لیے پرکشش ہوگی، اور ان صارفین کے لیے بھی جو بھارت کے اندر اور ہمارے اسٹار الائنس شراکت دار، ایئر انڈیا، اور دیگر انٹرلائن شراکت داروں کے ذریعے بھارت کے اندر اور جنوب مشرقی ایشیا بھر میں آگے جانے کے لیے منسلک پرواز حاصل کررہے ہیں۔” جناب روونسکو نے کہا۔ “یہ حکومت بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی بڑھانے کے لیے کینیڈا کی فضائی صنعت کی مدد سے وابستہ ہے۔ بھارت میں مارکیٹیں کھولنا اور کینیڈا کی بھارتی برادری کے لیے سفری سہولیات جاری رکھنا، نہ صرف فضائی شعبے کے لیے فوائد کا حامل اور تجارت کو فروغ دینے کا باعث ہے، بلکہ مسفاروں کو بھی اپنے دوستوں اور پیاروں سے جڑنے کے مزید آپشنز دے گا،” محترمہ لیزا ریٹ، وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا۔ “کینیڈا اور بھارت اقتصادی و دیگر تعلقات مضبوط کرنے سے وابستہ ہیں اور عالمگیر ہوتی دنیا میں فضائی روابط ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اہم ہیں۔ ایئر کینیڈا کی نئی سروس دونون ممالک کے بڑے شہری مراکز کو جوڑ کر کاروباری تعلقات قائم کرنے اور بہتر تجارت کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔ ہمارے ملک کی متحرک اور ترقی پاتی ہوئی ہند-کینیڈین برادری کے لیے یہ روٹ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور منسلک رہنے کو آسان بنائے گا،” نادر پٹیل، جمہوریہ بھارت کے لیے کینیڈا کے نئے ہائی کمشنر نے کہا۔ ٹکٹ 9 دسمبر 2014ء سے فروخت کے لیے دستیاب ہوگی جبکہ سروس یکم نومبر 2015ء سے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ذریعے ہفتے میں چار بار چلے گی جس میں ایئر کینیڈا کی اعزاز یافتہ تھری-کیبن سروس اور بین الاقوامی بزنس کلاس میں جدید لائی-فلیٹ سیٹ،

مزید پڑھیں

ڈی ڈی بی یورو بیسٹ سال کا بہترین نیٹ ورک اور سال کی بہترین ایجنسی قرار

لندن، 4 دسمبر 2014ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ باکستان — ڈی ڈی بی ورلڈوائیڈ کو رواں ہفتے ہیلسنکی میں منعقدہ 2014ء یوروبیسٹ فیسٹیول آف کریٹوٹی میں مسلسل دوسری مرتبہ سال کا بہترین نیٹ ورک قرار دیا گیا ہے جبکہ اس کی نیٹ ورک اداروں میں سے ایک سال کی بہترین ایجنسی قرار پایا ہے۔ مجموعی طور پر نیٹ ورک نے 45 اعزازات حاصل کیے جن میں ایک گراں پری، نو سونے، 21 چاندی اور 14 کانسی کے تمغے شامل ہیں، جو 12 زمروں میں حاصل کیے گئے: فلم، اشاعت، آؤٹ ڈور، ریڈیو، براہ راست، ذرائع ابلاغ، تشہیر و فعالیت، تکمیل شدہ، ڈیزائن، پی آر، ہنر اور برانڈڈ مواد۔ ایڈم اینڈ ایو ڈی ڈی بی نے مجموعی طور پر 16 اعزازات کے ساتھ سال کی بہترین ایجنسی کا اعزاز جیتا، جن میں گوگل+ فرنٹ رو کے لیے آؤٹ ڈور کا گراں پری بھی شامل ہے۔ ایجنسی نے آؤٹ ڈور، تشہیر و فعالیت اور تکمیل شدہ زمروں میں ہاروے نکولس کی “سوری آئی اسپین ٹاٹ آن مائی سیلف” کے لیے پانچ سونے کے تمغے اور ایس ایس ای “مایا” کے لیے ہنر میں دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ سال کی بہترین ایجنسی کے اعزازات میں حصہ لینے والی دیگر مہمات میں جان لوئس کے لیے “بیئر اینڈ ہیئر”، ہاروے نکولس کے لیے “اسپرنگ/سمر 2014ء سیل،” میرمائٹ کے لیے “ریسکیو” اور ووکس ویگن کے لیے “میڈ فار ریئل لائف” شامل ہیں۔ ڈی ڈی بی اسپین میڈرڈ کو سیلیم کی “ابورشن ٹریول” پر براہ راست زمرے میں سونے اور ڈی ڈی بی گروپ جرمنی برلن نے ڈوئچے ٹیلی کام کی “جوزز وائی فائی ڈوگس” پر ہنر کے زمرے میں سونے کا تمغہ ملا۔ نیٹ ورک کی کامیابیوں میں حصہ لینے والی دیگر ایجنسیوں میں ڈی ڈی بی پیرس، ڈی ڈی بی اینڈ ٹرائبل ورلڈ وائیڈ (نیدرلینڈز)، ڈی ڈی بی برسلز اور ڈی ڈی بی اسٹاک ہوم شامل ہیں۔ ڈی ڈی بی یورپ، مشرق وسطیٰ و افریقہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹرو ٹرامونٹن نے کہا کہ “آج ہماری صنعت بہت تیز اور سخت مسابقت کی حامل ہوچکی ہے۔ اس لیے یہ اعزاز حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے اور اسے برقرار رکھنا اور بھی زبردست ہے۔ مجھے اپنی ایجنسیوں پر فخر ہے، جو اتنے وسیع زمرہ جات میں تسلسل کے ساتھ تازہ خیالات پیش کررہی ہیں، اور خاص طور پر ایڈم اینڈ ایو ڈی ڈی بی پر، جو سال کی بہترین ایجنسی کے خطاب کی مکمل حقدار ہے۔” ڈی ڈی بی ورلڈوائیڈ کے چیف کریٹو آفیسر امیر کسایی نے کہا کہ “مارکیٹنگ کی دنیا میں ہمارا کردار صرف تخلیقی شعور، کہانیاں بتانے اور ڈیٹا حاصل کرنے تک محدود نہیں،بلکہ یہ تعلق اور اثر انگیزی تخلیق کرنے کے بارے میں ہے۔ ہم تازہ و نئے طریقوں سے متعلقہ سچ اور رابطہ کو تلاش تیار ہیں، اور ڈی ڈی بی کی یوروبیسٹ میں کارکردگی ثابت کرتی ہے کہ ہماری علاقائی ایجنسیاں کام کے اس طریقے کو مکمل طور پر اختیار کرتی ہیں۔” یہ چھ سالوں میں پانچواں موقع ہے کہ ڈی ڈی بی نیٹ ورک اعزاز کو اپنے گھر لایا ہے۔ ڈی ڈی بی 2009ء، 2010ء، 2011ء

مزید پڑھیں

ورڈ نیٹ ورک افریقہ اور برطانیہ میں فیتھ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک پر

ڈیٹرائٹ، 3 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — دنیا کے سب سے بڑے افریقی امریکی مذہبی نیٹ ورک  دی ورڈ نیٹ ورک نے فیتھ براڈ کاسٹنگ، سابقہ ٹی بی این ایس اے، پر منتخب پروگراموں کا اجراء کیا ہے۔ ورڈ نیٹ ورک نے فیتھ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک کے ساتھ مل کر افریقی براعظم میں نئے تعلقات کا آغاز کیا ہے جہاں ورڈ نیٹ ورک کے منتخب پروگرام افریقہ اور برطانیہ میں مختلف سیٹلائٹ چینلوں پر نشر ہوں گے اور 50 ملین ناظرین تک پہنچیں گے۔ دی ورڈ نیٹ ورک کے سی ای او کیون ایڈیل نے کہا کہ “ہم فیتھ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک کے ساتھ شراکت داری اور اپنے پروگراموں کو دنیا بھر میں پیش کرنے کے تسلسل پر خوش ہیں۔” فیتھ براڈکاسٹنگ فیملی آف نیٹ ورکس کے سی ای او آندرے روئبرٹ نے کہا کہ “یہ خدا کی ریاست کی کارگزاری کا عملی نمونہ ہے اور نیٹ ورک اپنے قلب اور جی جان سے یہ جذبہ رکھتا ہے، شکریہ ورڈ نیٹ ورک۔” پال کراؤڈ جونیئر پروگرام ڈائریکٹر دی ورڈ نیٹ ورک  اضافہ کرتے ہیں کہ “فیتھ براڈکاسٹنگ اور دی ورڈ نیٹ ورک کے درمیان تاریخی شراکت داری اس امر کو مضبوط کرتی ہے کہ مسیحی انجمنیں مل کر  کام کریں تو ہم عوام کی زندگیوں کو تبدیل کرنے پر اثر ڈال سکتے ہیں اور ساتھ ہی زخم خوردہ دنیا کے لیے امید اور مرہم بھی دے سکتے ہیں!” روابط برائے ذرآئع ابلاغ: مورت میسنر ایسوسی ایٹس، مورت میسنر، 2222-545-248

مزید پڑھیں

عالمی مذہبی رہنماؤں نے جدید غلامی کے خاتمے کے لیے اعلان پر دستخط کردیے

ویٹیکن سٹی، 2 دسمبر 2014ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان – غلامی کے خاتمے کے عالمی دن پر مذہبی رہنماؤں نے مشترکہ اعلان پر دستخط کردیے جس میں جدید غلامی، انسانی تجارت، جبری مشقت اور عصمتفروشی، اعضاء کی تجارت اور انسانوں کی برابری اور ان کی آزادی و احترام نہ کرنے والے کسی بھی قدم کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے، جسے ہر فرد اور تمام اقوام لازماً جرم تسلیم کریں۔ دنیا بھر میں مختلف عقائد رکھنے والے اور نیک نیت افراد جدید غلامی کے خاتمے کے لیے روحانی و عملی اقدامات سے وابستہ- آج، غلامی کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر، گلوبل فریڈم نیٹ ورک (جی ایفاین) نے عیسائی کیتھولک، انجلیکن، آرتھوڈکس کے ساتھ ساتھ بدھ، ہندو، یہودی اور مسلم عقائدکے مذہبی رہنماؤں کو یکجا کیا ہے ایک یکساں انسانی مقصد کے حصول کا اعلان کرنے کے لیے: 2020ء تک دنیا بھر سے ہمیشہ کے لیے انسانیت کے خلاف جرم قرار دی گئی جدید غلامی کے خاتمے کے لیے۔ ملٹیمیڈیا نیوز ریلیز دیکھنے کے لیے کلک کیجیے: http://www.multivu.com/players/English/7391151-faith-leaders-eradicate-slavery/ ایک باقاعدہ قدم کے طور پر جدید غلامی کے خلاف مذہبی رہنماؤں کے مشترکہ اعلان پر مندرجہ ذیل افراد نے دستخط کیے: کیتھولک: پوپ فرانس ہندو: محترمہ ماتا امرت آنندامائی (اماں) بدھ: زین ماسٹر تھیچنھاتہانھ (تھے) (جن کی نمائندگی قابل احترام بھیکھونیتھیچ نو چان کھونگ کریں گی) بدھ: اعلیٰ ترین وینداتک کے سری دھامارتنانائیک مہا تھیرو، ملائیشیا کے اعلیٰ ترین مذہبی پیشوا یہودی: ربی ڈاکٹر ابراہمسکورکا یہودی: ربی ڈاکٹر ڈیوڈروسن آرتھوڈکس: عزت مآب عالمی بطریق بارتھولومیو (جن کی نمائندگی عزت مآب میٹروپولیٹنایمانوئیل آف فرانس کریں گے) مسلمان: شیخ احمد الطیب، مرکزی امام الاظہر (جن کی نمائندگی ڈاکٹر عباس عبد اللہ عباس سلیمان، الاظہرالشریف کے نائب معتمد برائے معاملات کریں گے) مسلمان: آیت اللہ العظمیٰ محمد تقی المدرسی مسلمان: آیت اللہ العظیٰ شیخ بشیر حسین النجفی (جن کی نمائندگی آیت اللہ العظمیٰ کی خصوصی مشیر شیخ نازیہ رزاق جعفر کریں گی) مسلمان: شیخ عمر عبود انجلیکن: قابل احترام عزت مآب جسٹنویلبی، آرچبشپ آف کینٹربری متعدد مذہبی رہنماؤں نے  تقریب سے خطاب کیا اور عزت مآب عالمگیر بطریق بارتھولومیو اور آیت اللہ العظمیٰشیخ بشیر حسین النجفی کی طرف سے وڈیوپیغاماتآئے جو تقریب میں شرکت نہیں کرپائے لیکن جدید غلامی اور انسانی تجارت کے خاتمے سے ویسے ہی وابستہ ہیں۔ تقریب کی وڈیو یہاں دستیاب ہے: http://www.multivu.com/players/English/7391151-faith-leaders-eradicate-slavery/اور ساتھ ساتھ جی ایفاین کی ویبسائٹ پر بھی: http://www.globalfreedomnetwork.org گلوبل فریڈم نیٹ ورک کے بانی شراکت داروں میں سے ایک واک فری فاؤنڈیشن کے اینڈریوفورسٹ بھی اس تاریخی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے جدید غلامی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی انجمنوں اور کاروباری رہنماؤں سے ان مذہبی رہنماؤں کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ عیسائی کیتھولک، انجلیکن اور آرتھوڈکس اور ساتھ ساتھ بدھ، ہندو، یہودی اور مسلم عقائد رکھنے والوں نے غلامی کے خلاف کسی یکساں مقصد کے حصول کا مشترکہ اعلان کیا۔ جدید غلامی کے خلاف مذہبی رہنماؤں کا مشترکہ اعلان ہم، زیر دستخطی، 2020ء تک دنیا بھر سے اور ہمیشہ کے لیے جدید غلامی کے خاتمے کے لیے تمام عالمی عقائد رکھنے

مزید پڑھیں