لندن(پی پی آئی) سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی لندن آمد کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور احسن اقبال اور اسحٰق ڈار کی بھی اگلے چند روز میں ییہاں آمد ممکن ہے۔پی پی آئی کے مطابق پارٹی ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے ا صل موضوع گفتگو ہے اور اس ضمن میں مسلم لیگ ن کی لیگل ٹیم سے بھی مشاورت کا عمل جاری ہے۔
تازہ ترین خبریں
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
اٹلی میں معمولی بات پر کھاریاں کا 31سالہ طارق عزیز قتل،قاتل گرفتار
بولونیا (پی پی آئی)اٹلی میں پاکستانی پنجاب کے شہر کھاریاں کے 31سالہ طارق عزیزکو معمولی تلخ کلامی پر قتل کردیاگیا۔ اٹلی کیشہربولونیامیں طارق عزیزپارک میں بیٹھا تھاکہ اطالوی نوجوان کے پالتو کتے نے اس کے قریب پیشاب کردیا،پی پی آئی کے مطابق اس بات پر دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی اور اس دوران اطالوی نوجوان نے طیش میں آکرچاقو سے حملہ کردیا جس سے 31سالہ طارق عزیزموقع پر ہی دم توڑگیا۔اٹالین پولیس نے قاتل کو گرفتارکرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
شہر قائد میں ہزاروں کھلے مین ہول یومیہ بنیادوں پر جان لیوا حادثات کا سبب بننے لگے
کراچی (پی پی آئی)شہر قائد میں سڑکوں، گلیوں اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے مین ہول یومیہ بنیادوں پر جان لیوا حادثات اور مالی نقصان کا سبب بن رہے ۔پی پی آئی کے مطابق کراچی کی زبوں حالی پر شہری حقوق کمیٹی کی مرتبہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث رواں سال کم و بیش نصف درجن عورتیں،بچے اور مرد بشمول متعدد موٹر سائیکل سوار افراد گٹر میں گر کر جاں بحق ہوئے۔ ناگن چورنگی،جوہر،گلشن،اولڈ سٹی ایریا اور لانڈھی،ملیر،کورنگی و سرجانی ٹاون اور بلدیہ میں صدر، لائنز ایریا، لیاقت آباد اور تین ہٹی میں ہزاروں کھلے مین ہولز موجود ہیں جن پر درجنوں اموات کے باوجود ڈھکن نہیں لگائے جا سکے ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق یہ کھلے مین ہولز کسی بھی وقت مزید بڑے حادثات کا سبب بن سکتے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہان مین ہولز کو ڈھکا جائے تاکہ مزید کوئی جانی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔۔
ڈیڑھ سال میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مختلف ممالک سے ڈی پورٹ
کراچی (پی پی آئی)ڈیڑھ سال میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کئے گئے ہیں ڈی پورٹ ہونے والے ان پاکستانیوں نے بیرونِ ملک جانے کے لیے قانونی راستہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ انسانی سمگلروں کے ذریعے بیرونِ ملک پہنچے اور قانونی اداروں کی گرفت میں آئے۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ مسافر فضائی، بحری اور زمینی راستوں سے پاکستان آئے ہیں جن میں ایک لاکھ سے زیادہ وہ پاکستانی شامل ہیں جنہیں دنیا کے مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کر کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 25 فضائی، بحری اور بری راستوں سے سوا دو کروڑ سے زیادہ افراد پاکستان آئے یا پاکستان سے بیرونِ ملک گئے۔ ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ افراد پاکستان آئے جب کہ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بیرون ملک گئے۔‘ان اعداد و شمار کے مطابق ایران، ترکی، یونان، سپین اور عمان سمیت متعدد ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔وزارت داخلہ کے حکام کہتے ہیں کہ ترکی، یونان اور ایران سمیت مختلف ممالک کی جانب سے کم و بیش ہر مہینے ہی احتجاج کیا جاتا ہے اور پاکستانی حکومت کو غیرقانونی طور پر ان ملکوں میں آنے والے پاکستانیوں سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے اور یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس سلسلے کو روکا جائے۔ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق ’صرف بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد ہی ایک لاکھ سے زیادہ نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جعلی دستاویزات پر سفر کر رہے تھے یا پہلے سے بلیک لسٹ میں شامل تھے جنہیں بیرون ملک جانے سے روک کر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایسے کیسز کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔‘
