کراچی(پی پی آئی)کراچی میں کے الیکٹرک کے زائد بلوں کے خلاف عوام کا غصہ عروج پر پہنچ گیا۔ لانڈھی نمبر 3مین بس اسٹاپ پر انجمن تاجران بابر مارکیٹ لانڈھی کی میزبانی میں ہونے والے عوامی احتجاج میں بڑی تعداد میں بجلی بلوں کے متاثرین کی بھرپور شرکت۔جبکہ تاجربرادری، دکاندار، وکلاء برادری، علماء اکرام، سماجی، سیاسی مذہبی جماعتوں و تنظیموں کے رہنماؤں اورکارکنان کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔شرکاء نے کراچی میں عذاب نازل کرنیوالی کے الیکٹرک کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ مظاہرے میں تاجر برادری کے رہنماء و انجمن تاجران بابرمارکیٹ کے صدر محمد شفیق پاپا، اینٹی اسٹریٹ کرائم فورم کراچی کے بانی و چیئرمین سید عثمان الحسن ایڈووکیٹ، عمران عزیز ایڈووکیٹ، آصف ابراہیم ایڈووکیٹ، عادل خان زئی ایڈووکیٹ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان، آل برادری قومی موومنٹ، فکشنل مسلم لیگ، ق لیگ،کراچی ڈویژن کے عہدہ دران، بلڈرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ذمہ داران و کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔کے الیکٹرک کے زائد و ظالمانہ بلوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے محمد شفیق پاپا، سید عثمان الحسن ایڈووکیٹ، کاشف امین، محمد رئیس، اکرم قریشی، شیر علی، جاوید، عظیم انصاری، اخلاق سونی، پارس، شفیق و دیگر نے کہا کہ ہم کراچی پر ظلم کے خلاف متحد ہیں، کسی بھی ظلم و جبر کو برداشت نہیں کرینگے۔مقررین نے کہا کہ نگراں حکومت کے الیکٹرک کا ظلم روکے اگر عوام پر ظلم روکنے کی طاقت نہیں تو واپس اپنے گھر جائے۔مقررین نے کہا کے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والے تمام حکمران حالات کے ذمہ دار ہیں۔ سب نے ملک کی ترقی کے نام پر صرف اپنی جھولیاں بھری ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء برادری نے پیشکش کی کہ کے الیکٹرک کے ظالمانہ اقدام کے خلاف وہ قانونی جنگ لڑیں گے اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے متاثرین ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
عمران خان سزا معطلی کے فیصلے سے مجرم سے محترم نہیں بن گئے،فردوس عاشق اعوان
اسلام آباد(پی پی آئی)فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ عمران خان سزا معطلی کے فیصلے سے مجرم سے محترم نہیں بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان استحکام پاکستان پارٹی فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے فیصلے سے نظامِ انصاف کی قلعی کھل چکی ہے،سزا معطلی سے یہ طے نہیں ہوا کہ عمران خان کو صادق و امین کا سرٹیفکیٹ مل گیا۔آئی پی پی ہر حال میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کے کھانے دوسرے قیدیوں تک یقینی بنائے جائیں،عوام کو کسی کی سزا معطلی سے دلچسپی نہیں،عوام مہنگائی کی قید سے نجات چاہتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی بے لگام ہو چکی ہے،سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ملک کو دلدل میں دھکیلا۔انہوں نے بتایا کہ 95 فیصد عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پِس رہے ہیں،مہنگائی کی سزا بھگتنے والی عوام اس قیدر سے رہائی چاہتی ہے۔آئی ایم ایف معاہدے پر نظرِ ثانی کیلئے مذاکرات کئے جائیں۔ ترجمان استحکام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ بجلی کے بلوں نے عوام کی آخری سانسیں بھی چھین لی ہیں۔ آئی پی پی مطالبہ کرتی ہے کہ بجلی کے بلوں پر عوام کو ریلیف دیا جائے،اب دو وقت کی روٹی متوسط طبقے کیلئے بھی چیلنج بن گئی ہے۔عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قبل ازیں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے مگر غریب عوم کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ملک فلاحی ریاست کی بجائے پریشان حال مخلوق کی آماجگاہ بن چکا ہے،حکومت عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، بلوں کی ادائیگی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی۔
توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے والے جج ہمایوں دلاور نے ہائیکورٹ رپورٹ کردیا
اسلام آباد(پی پی آئی) اسلام آباد: توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے والے جج ہمایوں دلاور نے اسلام آبادہائیکورٹ رپورٹ کردیا۔ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے گزشتہ روز ہائیکورٹ رپورٹ کیا،3روز قبل جج ہمایوں دلاور کو ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بنا دیا تھا،رجسٹرار ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بننے کے بعد ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یاد رہے کہ جج ہمایوں دلاور نے سیکورٹی وجوہات کی بنا ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا، جج ہمایوں دلاور نے سیشن کورٹ سے اسپیشل کورٹ یا ہائی کورٹ ٹرانسفر کی استدعا کی تھی۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے عدلیہ میں مداخلت کی کوشش کی گئی: چیف جسٹس
اسلام آباد(پی پی آئی) چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں اپیل کا دائرہ بڑھا کر عدلیہ میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیاں ہیں۔اس دوران چیف جسٹس نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق پچھلے عدالتی حکم نامے بھی پڑھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا، اٹارنی جنرل نے جون میں کہا تھا اس ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی لیکن اس اسمبلی نے ایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا، نہیں معلوم موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق مؤقف کیا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائیکہ اس کی وجہ سے تمام کیس التواء کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ پر دوبارہ جائزے کے لیے دوبار وقت کیوں مانگا؟ کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کردے؟جسٹس اعجاز نے کہا کہ یکم اور 8 جون کا فیصلہ اس لیے سنایا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کے تحت کارروائی متاثرتو نہیں کی جا سکتی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ گڈ ٹو سی یو اور ساتھ ہی کہا کہ امید ہے ایسا کہنے پر مجھے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ پروسیجر بل میں حکومت نے اپیل کا دائرہ کاربڑھایا تھا، حکومت سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کیسیکرسکتی ہے؟ اگر حکومت سمجھتی ہے قانون کو بہتر یا دوبارہ دیکھا جائے تو عدالت مداخلت نہیں کرے گی، سپریم کورٹ پارلیمنٹ پر غالب آنا نہیں چاہتی لیکن سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آئین کے خلاف ہے، اس ایکٹ سے عدلیہ میں مداخلت کی کوشش کی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ترامیم کیس سپریم کورٹ کا یہی 3 رکنی بنچ ہی سنے گا، بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
تلاش کریں
خبریں
عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان
ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘
