کراچی، 16-جولائی-2026 (پی پی آئی): سندھ حکومت اپنی پہلی سندھ اسپورٹس پالیسی کا آغاز کرنے اور سندھ یوتھ کارڈ کی تیزی سے عملدرآمد کرنے جا رہی ہے، جو صوبے میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کھیلوں کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سندھ کے وزیر برائے کھیل اور امورِ نوجوانان، سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں آج منعقدہ ایک اہم اجلاس میں، حکام نے اس جامع حکمت عملی پر غور کیا جس کا مقصد 30 اضلاع کے 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ سندھ یوتھ کارڈ مختلف سہولیات فراہم کرے گا، جن میں تعلیمی وظائف، سود سے پاک کاروباری قرضے، مالی امداد، مہارت کی تربیت اور سفری رعایت شامل ہیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی میں، یوتھ کارڈ منصوبے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور اس کا آغاز قریب ہے۔ وزیر مہر نے محکمہ امورِ نوجوانان کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبے کے نوجوانوں کی مزید معاونت کے لیے اضافی فلاحی پروگرام متعارف کروائیں۔
مجوزہ سندھ اسپورٹس پالیسی روایتی اور جدید کھیلوں کو فروغ دے کر کھیلوں کے شعبے میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع کرنا، کھیلوں کی تنظیموں کی رجسٹریشن کو منظم کرنا اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔
سیکریٹری کھیل منور علی مہیسار نے انکشاف کیا کہ متعلقہ اداروں، بشمول تعلیمی اور صحت کے محکموں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں تاکہ ایک جامع نقطہ نظر اپنایا جا سکے۔ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد، جس نے کھیلوں کو صوبائی معاملہ قرار دیا، سندھ حکومت ایک جدید اور جامع کھیلوں کی پالیسی تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ پالیسی منظوری کے لیے سندھ کابینہ کو پیش کی جائے گی، جس سے اس کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگی اور خطے میں کھیلوں اور نوجوانوں کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

