پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پنجاب اور کے پی کے اسمبلیوں کے انتخاب پرساڑھے 22 ارب خرچ کا تخمینہ اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر دونوں صوبوں کے 411 حلقوں میں ضمنی انتخاب کرانا ہوگا صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے پر 60 روز میں ضمنی انتخابات کرادیں گے، الیکشن کمیشن

اسلام آباد (پی پی آئی)الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے صوبائی اسمبلیوں سے نکلنے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے پر قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا، جتنے بھی اراکین مستعفی ہوں گے، ان کی نشستوں پر 60 روز میں ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً 5 سے 7 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہوگا، ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہے لیکن قانون کے پابند ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنا اور مختلف حصوں میں بلدیاتی انتخابات بھی مشکل کام تھا جو ہم نے کیا، قانون کے مطابق اگر مشکل بھی ہے تو انتخابات کرائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے دوبارہ انتخابات پر کم از کم ساڑھے 22 ارب روپے کا خرچ آئے گا، اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو دونوں صوبوں میں 411 حلقوں میں ضمنی انتخاب کرانا ہوگا۔