اسلام آباد (پی پی آئی)الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے صوبائی اسمبلیوں سے نکلنے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے پر قومی نہیں بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ ہوگا، جتنے بھی اراکین مستعفی ہوں گے، ان کی نشستوں پر 60 روز میں ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی صوبائی حلقے میں انتخابات پر تقریباً 5 سے 7 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہوگا، ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہی سال میں ضمنی اور عام انتخابات کرانا مشکل ہے لیکن قانون کے پابند ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنا اور مختلف حصوں میں بلدیاتی انتخابات بھی مشکل کام تھا جو ہم نے کیا، قانون کے مطابق اگر مشکل بھی ہے تو انتخابات کرائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے دوبارہ انتخابات پر کم از کم ساڑھے 22 ارب روپے کا خرچ آئے گا، اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو دونوں صوبوں میں 411 حلقوں میں ضمنی انتخاب کرانا ہوگا۔
Next Post
جمہوریت کو عمران سے خطرہ ہے، قمر زمان کائرہ اسے سیاسی مخالفین پر الزام لگانے کے سوا کچھ نہیں آتا ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی کیلئے جدوجہد کی
Mon Nov 28 , 2022
لالہ موسیٰ (پی پی آئی) وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہ کہا ہے کہ جمہوریت کو عمران خان سے خطرہ ہے، عمران خان کو سیاسی مخالفین پر الزامات کے سوا کچھ نہیں آتا۔پی پی آئی کے مطابقانہوں نے منعقدہ تقریب سے خطاب […]
