شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستانی سفارت خانوں میں موجود عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر پر دفتر خارجہ کی وضاحت

کراچی (پی پی آئی)بیرون ملک پاکستان کے سفارتی عملے کی تنخواہیں روکے جانے کے حوالے سے میڈیا میں زیر گردش افواہوں کی تصدیق یا تردید کیے بغیر ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی مشنز کو مناسب وسائل کی فراہمی اور ٹرانزیکشنز میں بعض اوقات تاخیر ہوجاتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’بیرون ملک پاکستانی مشنز کو مناسب وسائل فراہم کرنے میں متعدد اقدامات اور ٹرانزیکشنز کا سلسلہ شامل ہوتا ہے جس میں بعض اوقات تاخیر ہوجاتی ہے، وزارت خارجہ اس سلسلے میں وزارت خزانہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مصروف عمل ہے‘۔قبل ازیں میڈیا میں یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ بیرون ملک بیشتر پاکستانی سفارت خانوں میں موجود عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے جس وجہ سے سفارتی عملے کو معمول کے سفارتی اْمور نمٹانے اور اخراجات پورے کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی وزارت خزانہ نے سکوک بانڈز کی ادائیگیوں کے لیے بیرون ملک پاکستانی مشنز کے عملے کی 3 ماہ کی تنخواہیں روک دی ہیں۔رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانے میں موجود عملے نے رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیشتر سفارت خانوں میں 3، 3 ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں لندن اور مانچسٹر، فرانس، جرمنی، بیلجئیم، برسلز، ترکیہ میں انقرہ اور اسنتبول، اسپین میں میڈرڈ اور عمان میں مسقط سمیت متعدد ممالک میں پاکستانی مشنز کو 3 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’وزارت خارجہ سے تنخواہیں بن کر نیشنل بینک اور پھر اسٹیٹ بینک کے ذریعے متعلقہ ممالک میں پہنچتی ہیں، یہ تنخواہیں ڈالرز کی شکل میں بیرون ملک منتقل ہوتی ہیں، پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے تھے، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اس وجہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 ماہ سے سفارتی عملے کی تنخواہوں کی مد میں جانے والے کروڑوں ڈالرز اپنے پاس روک رکھے ہیں‘۔