پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کویقینی بنائے:بلاول

نیویارک (پی پی آ ئی)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کیلئے اپناکردار ادا کرے۔کشمیرمیڈیاکے مطابق وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن اور سلامتی اصلاح شدہ کثیرالجہتی کے موضوع پرکھلی بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ایسا ایجنڈا آئٹم ہے جو اب بھی حل طلب ہے۔ ہم اسے ایک کثیر القومی ایجنڈا مانتے ہیں اور اگر آپ کثیرالجہتی ادارے اور اس کونسل کی کامیابی دیکھنا چاہتے ہیں، تو یقینا آپ اس عمل میں مدد کر سکتے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ جب کشمیر کا سوال ہو تو ثابت کریں کہ کثیرالجہتی کامیاب ہو سکتی ہے، ثابت کریں کہ سلامتی کونسل کامیاب ہو سکتی ہے اور خطے میں امن قائم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو مزید جمہوری بنانے سے اس ادارے کو بااختیار بنایا جا سکے گا اور اسے کام کرنے کا اخلاقی اختیار ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے مقاصد کو پورا نہیں کرتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں مزید اراکین کو شامل کرے اور اس کی ویٹو کی طاقت کو بڑھا دے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کی توجہ موسمیاتی تبدیلی، جوہری خطرات، دہشت گردی، مہاجرین اور نقل مکانی، قحط اور بھوک جیسے متعدد عالمی خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے پر مرکوز ہونی چاہیے جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہمیں انتہا پسندی اور نسلی اور مذہبی عدم برداشت کے نظریات کا مقابلہ کرنا چاہیے جس میں اسلامو فوبیا بھی شامل ہے جو بعض ممالک میں کمزور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد، اور یہاں تک کہ نسل کشی کے خطرات بھی پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام اہم اداروں،جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اقتصادی اور سماجی کونسل، انسانی حقوق کونسل، بین الاقوامی عدالت انصاف، سیکرٹری جنرل اوراقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کو بااختیار بنانا اور انہیں موثر طریقے سے استعمال کرنا بہت ضروری اور ناگزیر ہے۔