ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مذہب کے معاملات میں ریاستی مشینری کو افراد کے سامنے لیٹنا نہیں چاہیے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ، جب آئینی ادارے کی سفارشات پر عمل نہیں کرنا تو اسے بند کر دیں

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ، جب آئینی ادارے کی سفارشات پر عمل نہیں کرنا تو اسے بند کر دیں، مذہب کے معاملات میں ریاستی مشینری کو افراد کے سامنے لیٹنا نہیں چاہیے۔توہین مذہب کے مبینہ ملزم زاہد محمود کی ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ ٹرائل کورٹ نے فرد جرم میں تو دفعہ لگائی ہی نہیں، جب ملزم کو پتہ ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہے تو وہ اپنا مقدمہ کیسے لڑے گا؟ حکومت کے وکیل کا موقف ایسا عامیانہ نہیں ہونا چاہیے، آپ کو پتہ ہونا چاہیے کس جرم میں کیا دفعہ لگتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کہا کہ آرٹیکل 295 سی نہیں لگتا، جب ایک آئینی ادارے کی رائے پر عمل نہیں کرنا تو اس کو بند کر دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مذہب کے بارے میں ہر کیس کا تعلق ریاست سے ہوتا ہے، مذہب سے متعلق معاملات کسی فرد کے ہاتھوں میں نہیں دیے جا سکتے، مذہب سے متعلق معاملات ریاستی مشینری کو انتہائی صلاحیت اور احتیاط سے دیکھنے چاہئیں، مذہب کے معاملات میں ریاستی مشینری کو افراد کے سامنے لیٹنا نہیں چاہیے۔بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کر دیا۔